خلیج اردو آن لائن:
دبئی کی ایک رہائشی کمیونٹی میں گزشتہ روز ایک تیندوے کی موجودگی کے واقعہ کے بعد دبئی پولیس نے وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دبئی کے قوانین کے مطابق ایسے جانوروں کو عوام مقامات پر لانا سختی سے منع ہے۔
دبئی پولیس کا مزید کہنا ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے والے شخص کو 6 ماہ قید اور مالی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز دبئی کے اسپرنگ تھری نامی رہائشی علاقے میں ایک تیندوے کے کھلے پھرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور اسکے نتیجے میں اہل علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
جس کے بعد پولیس نے رہائشیوں یقین دلایا تھا کہ پیشہ ور افراد کی ایک ٹیم اس جانور کی تلاش کر رہی ہے۔
مزید برآں، جنگلی اور خطرناک جانور رکھنے سے متعلق 2017 میں نافذ ہونے والے ایک وفاقی قانون کے مطابق اس جرم کی سزا 50 ہزار درہم جرمانہ ہے۔
یہ قانون تمام اقسام کے جنگلی اور پالتو خطرناک جانوروں کے رکھنے اور ان کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرتا ہے۔ کیونکہ ایسے جانوروں سے لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ لہذا صرف وائلڈ لائف پارک، چڑیا گھر، سرکس یا ریسرچ کے لیے ایسے جانور رکھے جا سکتے ہیں۔
اس قانون کے چیتے یا کسی اور خطرناک جانور کو بطور پالتو جانور رکھتا ہے تو اسے 6 ماہ قید یا 10 ہزار سے 50 ہزار درہم جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ جب کے ایسے جانوروں کی خرید و فروخت کرنے والے شخص پر 50 ہزار سے 5 لاکھ کے درمیان جرمانہ یا قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
مزید برآں، اگر کوئی شخص کسی جانور کو استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے شخص پر حملہ کرتا تو اسے دوسرے شخص کے ہونے والے نقصان کی مناسبت سے جیل یا جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ اور دوسروں کو ڈرانے کے جانور رکھنے والے افراد قید یا 1 لاکھ درہم سے 7 لاکھ درہم کے درمیان جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
Source: Khaleej Times







