خلیج اردو
21 مئی 2021
ابوظبہی : دنیا میں جہاں نفرت کا بیوپار کیا جاتا ہے وہاں محبت کی کچھ ایسی مثالیں مل جاتیں ہیں جس سے ہر طرف پھیلے مایوسی کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔
ایسے میں دبئی میں بڑی ہونے والی ڈاکٹر ریکھا کرشن نے جب دیکھا کہ اس کا مسلمان مریض مررہا ہے تو انہوں نے اس کیلئے کلمہ شہادت پڑھا۔ جیسے ہی انہوں نے کلمہ شہادت ختم کیا تو اس کی مریضہ نے آخری سانس لی۔
چونکہ کرونا مریضوں کیلئے مختص وارڈ میں رشتہ داروں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی ، اسی وجہ سے ڈاکٹر ریکھا وہ واحد شخصیت تھی جو یہاں موجود تھی۔ انہوں نے مرنے والے 56 سالہ مریضہ کیلئے کلمہ شہادت پڑھا جو مریضہ نے اس کے پھیچے پڑھا۔
ڈاکٹر ریکھا کے مطابق اس کے مریضہ کو شدید نمونیا تھا۔ داخلے کے دوران ، اس کی حالت خراب تھی اور اسے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا۔ ہم نے پوری کوشش کی لیکن 17 دن بعد اس کے اعضاء میں خرابی آنے لگی۔ کوئی امید نہیں تھی۔ ہم نے گھر والوں سے تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے اسے وینٹیلیٹر اتارنے کی اجازت دی اور جو قسمت میں تھا اس کو قبول کرلیا ۔
جب میں وہاں کھڑی تھی تو میں بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کی فیملی کی آخری خواہش کیا ہے۔ میں نے اس کی روح کیلئے خاموش دعا شروع کی اور پھر کلمہ طیبہ پڑھنا شروع کی۔
اگر اس کی بیٹی یا خاندان کا کوئی فرد وہاں ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا۔ یہ کوئی مذہبی فعل نہیں تھا بلکہ انسان دوست عمل تھا۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہی لمحہ تھا جب میں نے دعا ختم کی تو اس نے اپنی آخری سانس لی۔ جس طرح سے یہ عمل ہوا اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ کسی نے مجھے کسی خدائی مداخلت کی طرح یہ کام کرنے پر مجبور کیا ۔
ڈاکٹر ریکھا نے اس کے اس اقدام کا کریڈٹ متحدہ عرب امارات کو دیا جہاں اس کے بڑا ہونے کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا۔ ان کے مطابق وہ کیرالہ میں پیدا ہوئی اور دبئی میں بؑڑی ہوئی۔ میں نے انڈین ہائی اسکول دبئی میں اپنی تعلیم مکمل کی۔میرے رشتہ دار اور والدین دبئی میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ میرا کافی مضبوط تعلق ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ میرا دوسرا گھر ہو۔ میرے والدین نے مجھے ہمیشہ دوسرے مذاہب کا احترام سیکھایا۔ میرے والدین نے مجھے مساجد میں احترام سیکھایا۔ ہمارا مذہب اور ثقافت ہمیں دوسرے مذاہب کا احترام سیکھاتے ہیں۔ میں اسلام کے مذہب کو کافی سمجھتی ہوں اور میرا اسلام کیلئے دل میں کافی احترام ہے۔
ڈاکٹر ریکھا کے مطابق وبائی مرض کرونا کے دوران طبی شعبے سے وابستہ کارکنان نے مریضوں کیلئے ان کے خاندان کا کردار ادا کیا ہے۔ میں اس وباء کے دوران سونا بھول گئی ہوں اور ان مریضوں کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات استوار ہو گئے ہیں۔ میں دوسروں کیلئے کلمہ پڑھتی ہوں اور یہ میرے لیے معمول کا حصہ ہے کہ مریضوں کے ساتھ خاندان کے فرد کا کردار ادا کروں۔
Source : Khaleej Times







