خلیج اردو آن لائن:
دبئی کی کریمنل کورٹ نے نرس کو تھپڑ مار کر اس کی قوت سماعت متاثر کرنے والے شخص کو 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
پبلک پراسیکیوشن کی تفتیش کے مطابق مدعاعلیہ کا خیال تھا کہ نرسنگ اسٹاف اس کی باپ کی موت کا ذمہ دار ہے۔
متاثرہ نرس نے بتایا کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ایک سرکاری ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی پر تھی۔ اور مدعاعلیہ اس کے پاس آیا اور اس پوچھا کہ آیا وہ اس ٹیم کا حصہ تھی یا نہیں جس نے اس کے باپ کو ٹرانسپورٹ کیا تھا۔ جب خاتون نرس نے بتایا کہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھی تو اس شخص نے اس منہ پر تھپڑ مار دیا۔
تھپڑ پڑنے کے فوری بعد نرس کو اپنے سر کے بائیں جانب شدید درد محسوس ہوا اور اس منہ کے خون آںے لگا۔ اس واقعہ کے بعد سے نرس کی قوت سماعت متاثر ہوئی ہے۔
امارات الیوم کے مطابق مدعاعلیہ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اپنے باپ کی موت کی وجہ سے شاک کی کیفیت میں تھا۔ اور جب اس کی بہن نے اسے بتایا کہ طبی عملے نے اس کے باپ کو ٹرانسفر کرتے ہوئے صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔ یہ سن کر وہ غصے میں آگیا اور ہسپتال جا کر نرس کو تھپڑ مار دیا۔
جبکہ نرس کی میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ تھپڑ پڑنے سے نرس کے بائیں کان کی قوت سماعت 2 فیصد تک متاثر ہوئی ہے۔
Source: Khaleej Times







