
خلیج اردو: محکمہ صحت ابوظہبی نے اسرائیل میں صحت شعبہ کے سب سے بڑے ادارہ اور دنیا میں اپنی نوعیت کے دوسرے بڑے ادارے کلالیت ہیلتھ سروسز کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان صحت شعبہ میں فروغ تعاون کی راہ ہموار ہوگی اور صحت عامہ کی معلومات ، تجربات اور مشترکا دوطرفہ سرگرمیوں کے تبادلہ میں سہولت ملے گی – اس ایم او یو کے تحت دونوں فریقین میں یقینی طبی تعاون ہوگا جس سے کئی منصوبوں کی تکمیل ہوگی ، ان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ڈیجیٹل ہیلتھ اقدامات ، وزیٹنگ ڈاکٹرز پروگرام ، پیشہ ورانہ تعلیم ، مریضوں کی نگہداشت کے بین الاقوامی حوالے ، تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز شامل ہیں ۔ اس ایم او یو کے تحت متحدہ عرب امارات کے صحت شعبہ کے پروفیشنلز اور میڈیکل سپیشلسٹس کو علم و دانش اور مہارت منتقل کی جائے گی جسے وزیٹنگ ڈاکٹر پروگرام اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے انجام دیا جائے گا – اس ایم او یو پر محکمہ صحت ابوظہبی کے انڈر سیکریٹری ڈاکٹر جمال محمد الکعبی اور کلالیت ہیلتھ سروسز کے سی ای او پروفیسر ایہود ڈیوڈسن نے دستخط کیئے ۔ اس موقع پر محکمہ صحت ابوظہبی کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن محمد الحامد ، متحدہ عرب امارات میں اسرائیل کے سفیر ایتان نائیہ ، نیشنل ہیلتھ انشورنس کمپنی کے سی ای او حمد عبداللہ المحیاس بھی موجود تھے – اس معاہدے کی شرائط کے مطابق دونوں فریق کلینیکل ٹرائلز میں شامل ہونگے ، ایسی مفید تحقیقی ماحول کے قیام کو انجام دیں گے جو کہ قابل قدر اور ممکنہ تحقیقی منصوبوں کو تجویز کرے گا جبکہ محکمہ صحت ابوظہبی ، امارات کو نمایاں لائف سائنس کا مرکز بنانے اور طبی سیاحت کی منزل بنانے کی کاوشوں میں معاونت جاری رکھے گا – اس معاہدے پر ردعمل میں شیخ عبداللہ الحامد کا کہنا تھا کہ عالمی معیار کے صحت نگہداشت اداروں کے ساتھ شراکت داری اور تعاون کی اہمیت پر یقین ہے تاکہ ابوظہبی کے محکمہ صحت شعبہ کو مزید مستحکم بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دانش ور قیادت کی جانب سے معاہدہ ابراھیم کرنے کے دور اندیش اقدام سے تعاون حقیقت کی شکل اختیار کرسکا ہے ، اسرائیل کے ساتھ جدید ترین اور اعلی پائے کی شراکت داری کی پیروی کیلئے کلالیت جیسے ادارے اہم ہیں جس سے صحت نگہداشت کے بہترین نتائج ، تحقیق و ڈیجیٹل اقدامات ہونگے اور بامقصد دوطرفہ تبادلہ خیالات کا مضبوط پلیٹ فارم دستیاب ہوگا ، یہ دونوں ایکوسسٹمز کیلئے تخلیق کاری اور اور پیداواری ترقی کا باعث ہوگا – انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے پاس عالمی سطح کا سب سے بڑا ہیومن جینومک سکیوینسنگ پروگرام ہے اور دنیا بھر میں یہ صحت معلومات تبادلے کا جامع صحت نظام ہے جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پرکشش ماحول کی ترغیب ملتی ، یہ ٹیکنالوجی میں سٹارٹ اپس اور قیادت کیلئے عالمی قائدانہ کردار کا حامل ہے – پروفیسر ایہود ڈیوڈسن کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ یہ شراکت داری قابل افتخار ہے ، یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جس سے ہماری اقوام کی صحت کو فروغ ملے گا ، گزشتہ سال معاہدہ ابراھیم ہونے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات معمول پر آئے اور صحت و ادویات شعبے میں فروغ تعاون کا مذاکرہ ہوا ، اب تحقیق و ڈیجیٹل ہیلتھ شبعے میں یہ تعاون کا معاہدہ قابل مسرت ہے ، کلالیت کو وسیع ڈیٹا بیس اور اسکے تجربات و مہارت ، تحقیق و تخلیق کاری میں بہت اہم ہیں – ملاقات میں نیشنل ہیلتھ انشورنس کمپنی ضمان اور کلالیت ہیلتھ سروسز کے درمیان طے پانے والے ایم او یو میں مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا جن میں بالخصوص احتیاطی ادویات ، رسک مینجمنٹ ، جلد تشخیص ، موذی امراض کی انتظام کاری ، جنیاتی تشخیصی پلیٹ فارمز اور مستقبل کی تخلیقات و دریافت شامل ہیں – حمد عبداللہ المیحاس کا کہنا تھا کہ یہ ایم او یو قابل مسرت پیشرفت ہے جس سے خطے کے نمایاں صحت خدمات اداروں کی کاوشوں کو مزید مستحکم بنانے اور علاقائی و عالمی سطح پر ایسی شراکت داری کو تقویت ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ انکے ادارے کی توجہ امارات سے باہر صارفین کی کوریج ہے ، اس میں بہترین پیشہ ورانہ خدمات اور آپریشنل پریکٹسز شامل ہیں ۔ انہوں نے اس حوالے سے محکمہ صحت ابوظہبی کا شکریہ بھی ادا کیا – کلالیت ہیلتھ سروسز ، سرکاری اور جزوی نجی صحت خدمات کا سب سے بڑا ادارہ ہے جوکہ طبی نگہدات اور صحت تخلیقات میں صف اول کا ادارہ ہے ، وہ اب تک 4 ملین سے زائد مریضوں کو خدمات میسر کرچکا ہے۔






