
خلیج اردو
07 اکتوبر 2021
دبئی : فاطمہ البیتار نے چودہ سال کی عمر میں دنیا کی سب سے کم عمر ترین خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا ہے جہاں انہوں نے ہواؤں کا سینہ جہاز چلا کر چھیر لیا تھا۔
البیتار 1959 میں شام میں پیدا ہوئی اور تین ماہ کے بچے کے طور پر متحدہ عرب امارات لائی گئی۔ اس وقت اسے ٹروشل اسٹیٹس کہا جاتا تھا۔ اس نے پہلے ایوی ایشن سکول میں داخلہ لیا جو 16 مئی 1971 کو اس وقت کے عرب قبائلی اتحاد میں نوآبادیاتی برطانوی راج کے تحت کھولا گیا تھا۔
بہادر لڑکی ایک معزز شامی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی جہاں متحدہ عرب امارات کو قیام میں آنے سے قبل اس کے والد اشاعتی انڈسٹری کے بانی تھے۔
انہوں نے اپنے رہبر کپٹن عادل الدیب سے اڑنے سے متعلق تربیت حاصل کی جو 1976 تک اس کے منیجر رہے۔ البیتار کے والدین ان کے اس اڑنے کی خواہش کے معاون تھے۔ وہ 1973 میں سات سو گھنٹے کی اڑان بھر چکی تھی جو کلاس میں واحد طلبہ تھی۔
وہ دنیا میں پہلی عرب خاتون پائلٹ بنی جنہوں نے پوری دنیا میں میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جرمنی ، برطانیہ اور عرب ممالک کے صحافیوں کی جانب سے انٹرویو کیلئے بلائی گئی۔
وہ ابوظبہی ، شارجہ اور فوجیرہ کیلئے حالیہ پروازیں چلا چکی ہیں اور وہ پاکستان اور بحرین کیلئے بھی پروان اڑ چکی ہے۔
وہ ہوا بازی کے شعبے کا لازمی حصہ بننا پسند کرتی ، لیکن قسمت کو کچھ اور پسند تھا اور انہیں ایک دن اسے انگلینڈ جانا پڑا جہاں اس کا شوہر منتقل ہو رہا تھا۔ یہاں ال بیتار جو عرب دنیا کا غرور اور عزم و ہمت کی تصویر تھی ، نے تعلیم میں ایک نیا جذبہ پایا۔
ابتدائی طور پر انہوں نے دمشق یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں اس نے اسلامیات میں پہلی پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈائیورس اسٹریمز میں دو لگاتار پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں حاصل کیں ۔ بزنس ایڈمنسٹریشن اور تعلیم میں لیڈر شپ اس کی تیسری پوسٹ گریجویٹ ڈگری ابوظہبی یونیورسٹی سے تھی۔
ان تعلیمی اسناد نے اسے اپنے شاندار پیشہ ورانہ کیریئر میں گزشتہ 32 سالوں سے ایک سرشار تعلیمی ماہر کے طور پر لاکھڑا کیا ہے۔
آج کل وہ شارجہ کے البیان اسکول میں پرنسپل ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی کامیابی سے مطمئن ہے۔
البيتار چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی ماں ہے۔ جو اپنی ماں کے کارنامے پر بہت فخر کرتے ہیں کیونکہ اس نے کم سفر کا راستہ چنا اور اس میں سبقت حاصل کی۔
بچوں کو اپائلٹ بننے کیلئے راضی کرنے کی ان کی کوششوں میں خلل آئی کیونکہ انہوں نے انجینئرنگ اور میڈیسن اسٹڈی جیسے روایتی تعلیمی شعبوں کا انتخاب کیا۔
Source : Khaleej Times







