
خلیج اردو 12 نومبر 2021
دبئی:پاکستان نے جمعرات کو افغانستان کو بحرانوں سے نکالنے اور معاشی استحکام میں معاونت فراہم کرنے کیلئے امریکا،روس اور چین کے خصوصی نمائندگان سے مذاکرات کی میزبانی کی۔ عالمی برادری نے ابھی تک افغانستان میں طالبان کی قائم کردہ عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا جس کے باعث افغانستان کو مختلف ممالک کے ساتھ رواط، تجارت اور دیگر معالی معاملات کے لین دین کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کی تاہم انہوں نے بعد میں امریکا، چین اور روس کے خصوصی نمائندہ گان سے ملاقاتیں کی۔
امیر خان متقی نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کیں جن کا مقصد افغانستان میں جاری معاشی بحران سے نکلنے میں معاونت فراہم کرنے تبادلہ خیال کرنا تھا۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ایک مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے افغان عوام کی فوری امداد کی اپیل کی گئی جبکہ طالبان پر بھی ایک ایسی جامع اور نمائندہ حکومت قائم کرنے پر زور دیا گیا جو خواتین اور لڑکیوں سمیت تمام افغانوں کو مساوی حقوق فراہم کرے۔
اعلامیے میں طالبان کی جانب سے افغانستان سے آنے اور جانے والے مسافروں کو محفوظ راستہ دینے کے عزم کا خیر مقدم کیا گیا۔ افغانستان میں حالیہ دھماکوں کی بھی مذمت کی گئی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ دہشتگردی کیخلاف موثر اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کیخلاف دہشتگردی کے مقاصد کیلئے استعمال نہ کی جاسکے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی گفتگو میں خدشات کا اظہار کیا کہ افغانستان میں معاشی تباہی وسیع تر عدم استحاکم کا باعث بنے گی۔شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری سے افغانستان کے منجمد فنڈز بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔پاکستانی وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کے فروغ کیلئے عالمی براری پر نئی افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں رہنے پر بھی زور دیا۔۔۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ انہوں نے امریکا ،چین اور وس کے نمائندہ گان کو افغانستان کے حوالےسے بیجنگ میں ہونے والے اگلے اجلاس میں طالبان کے نمائندوں کو بھی بلانے کی درخواست کی تاکہ ان مذاکرات کو مزید نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔
پاکستان، طالبان کے قبضے کے بعد مسلسل افغانستان کے بیرون ملک مجمند اثاثے بحال کرنے پر زور دیتا رہا ہے تاکہ افغانستان میں اٹھنے والے معاشی بحران کو قابو کیا جا سکے
طالبان انتظامیہ کو اس وقت افغان مرکزی بینک کے 9 بلین ڈالر کے ذخائر تک رسائی حاصل نہیں ہے جن میں سے زیادہ تر نیویارک فیڈرل ریزرو کے پاس ہے ہیں۔۔۔
بھارت نے بھی بدھ کے روز افغانستان میں طالبان کے قبضے کے اثرات پر بات چیت کیلئے ایران ،روس اور پانچ وسطی اشیائی ممالک کے سیکیورٹی حکام کی میزبانی کی۔ پاکستان اور چین نے بھارت میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکارکیا تھا۔
SOURCE: KHALEEJTIMES







