متحدہ عرب امارات

کن صورتحال میں اسٹوڈنٹس کو آن لائن کلاسز لینا ہوگی؟نالج اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی دبئی نے وضاحت کردی

خلیج اردو

دبئی:متحدہ عرب امارات میں کرونا کیسز میں اضافے کے بعد اسکولوں کی انتظامیہ تذبذب کا شکار ہے۔متعدد اسکولوں کی انتظامیہ نے اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کہ کئی ایسے اسکول بھی ہیں جہاں نالج اینڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی اجازت کے بعد آن لائن کلاسز میں ایک ہفتے کی توسیع کی گئی ہے۔

 

مختلف سکولوں کو سو فیصد حاضری کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دینے کے باوجود نالج اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹرپس، اسمبلیوں کے انعقاد اور اندرونی اجتماعات پر پابندی عائد کی ہے۔اتھارٹی نے تین مختلف صورتحال میں انتظامیہ کو اسٹوڈنٹس کو آن لائن کلاسز لینے کی اجازت دی ہے۔

 

نمبر1) اگر کسی سٹوڈنٹ یا اسٹاف کے کسی رکن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو ایسے میں اُس کو دس روز کے لیے گھر میں آئسولیٹ ہونا پڑے گا۔اس صورتحال میں اسٹوڈنٹ کو آن لائن کلاسز لینے کی اجازت ہوگی۔کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے سٹوڈنٹ اور اسٹاف کے رکن کو دوبارہ اسکول آنے کے لئے دبئی ہیلتھ اتھارٹی سے کلیئرنس سرٹیفکیٹس لینا ہوگا۔

نمبر2)اسٹوڈنٹ اور اسٹاف کے ممبرز کو کرونا علامات کی صورت میں اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایسی صورتحال میں اسٹوڈنٹس گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لے سکیں گے۔اسٹوڈنٹس اور سٹاف ممبر علامات ختم ہونے کے بعد اسکول جوائن کر سکیں گے۔

نمبر3) اگر کسی اسٹوڈنٹ اور اسٹاف کے ممبر کا کرونا مثبت آنے والے شخص سے قریبی رابطہ ہوا ہو تو ایسے میں اس کو 7 روز قرنطینہ میں گزارنا ہونگے۔اس دوران بھی اسٹوڈنٹس آن لائن کلاسز لے سکیں گے۔

 

کرونا کیسز میں روز بروز اضافہ کے بعد ابو ظہبی سمیت دیگر امارات میں رواں ماہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکولوں کی جانب سے آن لائن کلاسز کا اعلان کیا گیا تھا۔اسٹوڈنٹس اور اسٹاف کو دوبارہ اسکول آنے کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دیکھانے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔
Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button