متحدہ عرب اماراتٹپس

کیا دوسری شادی کیلیے مجھے پہلی بیوی کی اجازت درکار ہے ؟ قانون کیا کہتا ہے جانیے

خلیج اردو
دبئی : اسلام میں مرد کو چار بیویوں کی اجازت ہے تاہم اس حوالے سے شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا لازم ہے۔ عام طور پر لوگ ایک ہی شادی کرتے ہیں اور اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ پہلی بیوی کی ناروضگی مول نہ لینا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں دوسری شادی کے حوالے سے ایک قاری نے خلیج ٹائمز سے سوال پوچھا ہے کہ یو اے ای میں دوسری شادی کیلیے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازمی ہے؟

جواب : آپ کے سوال کو دیکھتے ہوئے یہ فرض کر لیا جارہا ہے کہ آپ مسلمان ہیں اور آپ متحدہ عرب امارات کے رہائشی ہیں۔ شریعت کے قانون کے مطابق آپ کو دوسری شادی کیلیے اپنی پہلی بیوی سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کیلیے شادی کے خواہش مند شخص کو پرسنل اسٹیٹس عدالت میں جاکر اپنی شادی کو رجسٹر کرنا چاہیے جو ان کے ثوابدید ہے۔

اس کیلیے کسی ایک فریق یا اس کے والدین کے پاس متحدہ عرب امارات کا رہائشی ویزہ ہونا لازم ہے۔

اس کے علاوہ دلہن اور دلہے کو میڈیکل سنٹرز سے سکریننگ ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی جو انہیں شادی سے پہلے کرانا لازم ہونگے۔

زیل میں ایک غیر ملکی مسلمان کیلیے دوسری شادی کرنے کے قوانین ہیں جن کی تفصیلات دی جارہی ہے۔

یہ شادی عدالت میں رجسٹر ہونی چاہیے جس کے پاس یو اے ای کے قانون کے مطابق اس کی اجازت ہے۔ اس کیلیے دلہے یا دلہن کو انلائن اپلیکیشن جمع کرانا ہوگا تاکہ وہ اپنی شادی کو کورٹ میں رجسٹر کر سکے۔

دونوں کیلیے لازمی ہے کہ وہ شادی کی کم از کم عمر کے حوالے سے شرط کو پورا کررہے ہوں۔

دونوں کے پاس میڈیکل سکریننگ کی فٹنس سرٹیفیکٹ کا ہونا لازم ہے۔

دلہے اور دلہن دونوں کو شادی میں موجود ہونا لازم ہے۔

دلہن کا باپ یا اس کی جانب سے مقرر شدہ شخص اور دو مسلمان گواہوں کو رجسٹرار کی شادی میں جانا ہوگا۔

دلہن کو اپنے والدین یا کفیل شخص سے اجازت لینی ہوگی جب وہ شادی کررہی ہوں۔ یہ ذمہ دار شخص یو اے ای میں موجود ہونا چاہیے۔

دلہن کا باپ اگر زندہ نہ ہو تو قریبی دشتہ دار کی موجودگی لازم ہے۔ اگر باپ زندہ ہو مگر یو اے ای میں موجود نہ ہو تو قریبی رشتہ دار کیلیے باپ سے اجازت نامہ پیش کرنا ہوگا۔ یہ اجازت نامہ وزارت خارجہ امو بین الاقوامئ امور اور وزارت انصاف کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔

کچھ مخصوص قومیت کے لوگوں کو ان کے سفارت خانے سے نو ابجکشن سرٹیفیکٹ یعنی این او سی لینا ہوگا۔

دوسری طرف اگر آپ اپنے ملک میں شادی کرنا چاہ رہے ہوں تو متعلقہ حکام سے اس حوالے سے آپ رہنمائی لے سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور وضاحت کیلیے آپ پرسنل اسٹیٹس کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

Source : Khaleej Times

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button