
خلیج اردو
اسلام آباد:وزیرنجکاری عبدالعلیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ پی آئی اے کی حالت خراب سے خراب تر کی جارہی ہے کہ نجکاری نہ ہو، منفی ایکویٹی کے ساتھ کسی بھی ادارے کی نجکاری ممکن نہیں۔ دوبارہ نجکاری کیلئے کام چل رہا ہے ۔سیکرٹری نجکاری نے بتایا کہ 18فیصد جی ایس ٹی کی شرط ختم کیے بغیر نجکاری شاید آگے نہ بڑھ سکے۔ آئی ایم ایف کو بھی بتا دیا۔
سینیٹر طلال چوہدری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا۔ وزیر نجکاری عبد العلیم خان نے کنسلٹنٹس کی ہائرنگ وزیر بننے سے قبل ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایئر لائن کی 45 ارب روپے کی منفی ایکیویٹی تھی جس سے مسائل ہیں۔ منفی ایکویٹی کے ساتھ ادارے فروخت نہیں ہوتے۔
حکومت کو کسی بھی ادارے کی نجکاری سے پہلے اس کی ایکویٹی ختم کرنی چاہیے۔ طیاروں کی لیز پر 18 فیصد جی ایس ٹی نہ لینے کا ایف بی آر سے مطالبہ کیا۔ ایف بی آر سے جو تعاون مانگا تھا وہ نہیں ملا۔
وزیر نجکاری کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں اضافی چیزیں ختم کر کے پھر نجکاری کی جائے گی۔ایف بی آر نے لچک نہیں دکھائی تمام اداروں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، چیئرمین کمیٹی طلال چوہدری نے کہا کہ 623 ارب روپے کا خسارہ اٹھایا گیا تو 45 ارب روپے کا خسارہ کیوں نہیں اٹھایا۔
عبدالعلیم خان نے بتایا کہ جب سٹرکچر بنایا گیا تو 623 ارب کو 650 کیوں نہیں کیا گیا مجھے نہیں پتہ، ہر حکومتی ادارے کو یہ بات پہنچائی مگر بات نہیں مانی گئی، وزیر اعظم کی مشاورت کے بعد دوبارہ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔سینیٹر طلال چوہدری نے سوال کیا کہ پی آئی کی حالیہ ناکام نجکاری کے بعد کوئی اچھی خبر آنے کا مکان ہے؟ جس پر عبدالعلیم خان نے جواب دیا کہ پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ۔
سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ ابو ظہبی پورٹ کمپنی کے ساتھ ابتدائی معلومات جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ پی آئی اے کی تفصیلات شیئر کیں ہیں، آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے کہ نئے طیاروں کی خریدوفروخت پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی شرط ختم کرنی ہو گی، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ واپس جا کر بورڈ سے بات کرکے آگاہ کریں گے۔






