
خلیج اردو
دبئی:دبئی کی معروف تعلیمی کمپنی جیمز ایجوکیشن آئندہ دو سے تین سالوں میں تقریباً 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی تاکہ اپنی تعلیمی سہولیات کو وسعت دے سکے۔ کمپنی کے سی ای او ڈینو ورکی نے ابو ظبی میں ایک کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔
جیمز ایجوکیشن کا ہدف ہے کہ وہ 2028 تک اپنے طلبہ کی تعداد میں 30,000 سے 35,000 کا اضافہ کرے۔ دبئی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مشرق و مغرب سے آنے والے افراد کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ورکی نے کہا کہ برطانیہ میں نجی اسکولوں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور نان ڈومیسائلڈ اسٹیٹس کے خاتمے جیسے فیصلوں کی وجہ سے کئی دولت مند افراد متحدہ عرب امارات منتقل ہو رہے ہیں، جس سے دبئی میں بین الاقوامی تعلیم کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ سال بروک فیلڈ ایسٹ مینجمنٹ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے جیمز ایجوکیشن میں سرمایہ کاری کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجی ایکویٹی کمپنیاں خلیجی ممالک میں مقامی کاروباروں کی حمایت کر رہی ہیں۔
جیمز ایجوکیشن رواں سال اگست میں ایک نیا اسکول کھولنے جا رہا ہے، جہاں سالانہ فیس مستقبل میں 56,000 ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی ممکنہ تعلیمی ادارے خریدنے کے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔
یہ خاندانی کاروبار 1968 میں ایک اسکول سے شروع ہوا تھا اور آج دنیا بھر میں تقریباً 200,000 طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہا ہے۔







