
خلیج اردو
اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ نے وضاحت کی کہ مجوزہ معدنیات کے بل میں کوئی ایسی شق شامل نہیں جو پختونخوا کے مفاد کے خلاف ہو۔
انہوں نے کہا کہ معدنیات کا اختیار وفاقی حکومت یا ایس آئی ایف سی کو نہیں دیا جا رہا۔ میڈیا سے درخواست کی کہ وہ اس حوالے سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے اجازت کے بعد ہی بل کی منظوری دی جائے گی۔
گوہر علی نے کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں مائنز اینڈ منرلز سے متعلق علی امین گنڈا پور نے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے اس بل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایسی کوئی شق شامل نہیں جس سے صوبے کا اختیار وفاق یا ایس ای ایف سی کو منتقل ہو۔
انہں نے واضح کیا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی اس بل کو کلیئر نہیں کرتے، اس کا کوئی آئندہ پراسس نہیں ہو گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جانب سے انہیں حکومت سے مذاکرات کے لیے کوئی ٹاسک نہیں دیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام یہ تھا کہ انہوں نے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم حکومت کی غیر سنجیدگی کے باعث حکومتی مذاکراتی عمل ترک کیا گیا۔






