
خلیج اردو
دبئی: دبئی کے دو رہائشی مہیر الطبچی اور ایرک رابرٹسن نے 15 مارچ کو سمندر میں 29 کلومیٹر طویل مسلسل تیراکی کا چیلنج مکمل کیا، جس کا مقصد بچوں میں آٹزم اور نوعمری کے گٹھیا سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔ دونوں دوستوں نے "دی ورلڈ آئی لینڈز” سے دبئی کے ساحل تک دس گھنٹے طویل مسلسل تیراکی کی۔
لبنان سے تعلق رکھنے والے مہیر الطبچی اور فرانس کے ایرک رابرٹسن نے پانچ ماہ تک روس کی سابقہ عالمی شہرت یافتہ تیراک ناتالیا پینکینا کی زیر نگرانی تربیت حاصل کی۔ یہ مشن کسی ریکارڈ کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ ان بیماریوں سے متاثرہ بچوں کے لیے ہمدردی اور شعور بیدار کرنے کا ایک مشترکہ جذبہ تھا۔
الطبچی نے بتایا کہ ان کے خاندان میں ایک بچہ نوعمری کے گٹھیا کا شکار ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اس مقصد کو ذاتی مشن بنایا۔ ایرک رابرٹسن کو بھی آٹزم سے متاثرہ قریبی فرد کی وجہ سے اس مقصد سے جذباتی وابستگی ہے۔
الطبچی نے کہا: "مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ گٹھیا بچوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کئی بچے سالوں تک تشخیص کے بغیر رہ جاتے ہیں، کیونکہ والدین سمجھتے ہیں کہ صرف لنگڑا پن ہے۔”
اس مشن میں دونوں تیراکوں کو "الجلیلہ فاؤنڈیشن” کی حمایت حاصل رہی، جو دبئی میں طبی تحقیق اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔ علاوہ ازیں دبئی پولیس نے بھی تیرنے کے دوران ہر 30 منٹ بعد الیکٹرولائٹس، کیلے اور چائے فراہم کر کے تعاون کیا۔
الطبچی نے بتایا کہ تین ہفتے قبل وہ ایک وائرس کا شکار ہو گئے تھے، لیکن دو سالہ منصوبہ بندی، کڑی تربیت اور شدید عزم نے انہیں اس چیلنج سے پیچھے نہ ہٹنے دیا۔ انہوں نے کہا: "ہم کسی شہرت یا ریکارڈ کے پیچھے نہیں تھے، بلکہ ان بچوں کے لیے تیر رہے تھے جو روزانہ آٹزم اور گٹھیا کے خلاف جنگ لڑتے ہیں۔ یہی بچے ہماری ہر حرکت میں تحریک بنے۔”







