
خلیج اردو
دبئی: دبئی نے ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے معلق ٹرانزٹ سسٹمز، لچکدار اوقاتِ کار، ریموٹ ورک پالیسیز اور اسکول ٹرانسپورٹ میں اصلاحات جیسے متعدد اقدامات پر مشتمل نیا منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ پلان 2030 میں سڑکوں کے ڈھانچے، پبلک ٹرانسپورٹ کی ترقی، اور اسمارٹ ٹریفک سسٹمز کو شامل کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دبئی میں روزانہ تقریباً 35 لاکھ گاڑیاں سڑکوں پر آتی ہیں، اور گزشتہ دو سالوں میں گاڑیوں کی رجسٹریشن میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو عالمی اوسط 2 سے 4 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس دباؤ کے پیش نظر کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاکہ رش کو کم کیا جا سکے۔
عوامی ٹرانسپورٹ کی ترقی اور معلق ٹرانزٹ سسٹم
منصوبے میں دبئی میٹرو کی نیلی لائن کی تعمیر، معلق ٹرانزٹ سسٹم کے فزیبلٹی اسٹڈیز، بسوں اور ٹیکسیوں کے لیے مختص لینز کا پھیلاؤ، اور بس و میرین ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بہتری شامل ہے۔
گزشتہ برس منظور شدہ معلق ٹرانزٹ سسٹم منصوبہ کے تحت ایک 65 کلومیٹر لمبا اسمارٹ موبیلٹی نیٹ ورک ام سقیم، الخور اور زعبیل کو جوڑے گا، جس میں الیویٹڈ ریل پر چلنے والے پوڈز شامل ہوں گے۔
نقل و حمل کی نئی پالیسیز
2030 کے منصوبے میں لچکدار اوقاتِ کار، ریموٹ ورک، اسکول بسز کا استعمال، پارکنگ اور ٹولز کیلئے ڈائنامک پرائسنگ، اور ٹرکوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو گھنٹے کی لچکدار شروعاتی ونڈو اور ماہانہ چار سے پانچ دن کی ریموٹ ورکنگ کے ذریعے صبح کے وقت کے رش میں 30 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
اسی طرح والدین کو اسکول بسز استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ اسکولوں کے اطراف ٹریفک 13 فیصد تک کم ہو سکے۔
بس نیٹ ورک اور نئی سڑکیں
آر ٹی اے نے 20 کلومیٹر سے زائد مختص بس لینز بنانے کا ہدف رکھا ہے، جن کی تکمیل 2025 سے 2027 کے درمیان متوقع ہے۔ یہ لینز 59 فیصد تک سفر کے وقت میں کمی لا سکتی ہیں۔
سڑکوں کی بہتری اور اسمارٹ ٹریفک نظام
منصوبے میں 39 اسٹریٹجک سڑک منصوبے شامل ہیں، جن میں لطیفہ بنت حمدان اسٹریٹ، حصہ اسٹریٹ، المیدان، المستقبل اسٹریٹ اور ٹریڈ سینٹر چکر کے اپگریڈ شامل ہیں۔
آر ٹی اے نے انٹلیجنٹ ٹریفک سسٹم (ITS) کے دوسرے مرحلے کا بھی آغاز کیا ہے، جس کا مقصد پورے دبئی میں 100 فیصد نیٹ ورک کوریج حاصل کرنا ہے۔
یہ جامع منصوبہ دبئی کی سڑکوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو مؤثر طریقے سے کم کرنے اور ایک مربوط و جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کو یقینی بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔







