
خلیج اردو
ابوظہبی (17 اپریل 2025)
متحدہ عرب امارات میں جنرل اتھارٹی آف اسلامک افیئرز، اوقاف اور زکوة نے 20 سے زائد آن لائن پلیٹ فارمز اور افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے رپورٹیں درج کرائیں ہیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے بغیر سرکاری اجازت کے قرآن حفظ کی کلاسز چلا رہے تھے۔
اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عمر الدرعی نے واضح کیا کہ یو اے ای کے قوانین کسی بھی ایسی دینی سرگرمی کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں جس میں مذہبی آگاہی، گھریلو یا عوامی وعظ و نصیحت، یا قرآن کی تعلیم و تفسیر شامل ہو، جب تک کہ اس کے لیے مجاز حکام سے باضابطہ لائسنس حاصل نہ کیا گیا ہو، خواہ یہ سرگرمیاں آن لائن ہوں یا بالمشافہ۔
ڈاکٹر عمر نے کہا کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں سخت سزائیں شامل ہیں تاکہ قومی سلامتی اور سماجی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر لائسنس قرآن کلاسز جیسی سرگرمیاں انتہا پسندی اور دہشت گرد عناصر کی ذہنی رسائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں، جو سماج کے مختلف طبقات کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے معاشرے کے تمام افراد، خواہ شہری ہوں یا مقیم، سے اپیل کی کہ وہ چوکنا رہیں اور اپنے گھروں، بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو ایسے غیر مجاز ذرائع سے محفوظ رکھیں، جو انہیں گمراہ کن نظریات کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
اتھارٹی نے بتایا کہ وہ پورے ملک میں باقاعدہ اجازت یافتہ مراکز، مساجد میں قائم حفظ حلقوں، اور ایک جدید آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے قرآن تعلیم کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جس سے معاشرے کے تمام طبقات مستفید ہو سکتے ہیں۔







