
خلیج اردو
ریاض: سعودی عرب میں حج 2025 کے لیے سکیورٹی اور ضابطوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزارت سیاحت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق، بغیر اجازت نامے کے حج کرنے یا ایسے افراد کو لے جانے والوں کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی ایسے افراد کو حج کے لیے لے جاتے ہوئے پکڑا گیا جن کے پاس درست اجازت نامہ نہ ہو، اس پر 10 ہزار سعودی ریال (تقریباً 9,700 درہم) جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہ سزا سعودی شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور مملکت کے زائرین سب پر لاگو ہوگی۔
وزارت نے مزید وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص متعدد غیر مجاز افراد کو لے جاتے ہوئے پکڑا گیا، تو ہر فرد کے حساب سے جرمانہ الگ الگ لگے گا۔ مثلاً اگر 15 افراد کو بغیر اجازت نامے کے لے جایا گیا تو 10 ہزار ریال کا جرمانہ 15 گنا ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملزمان کو 15 دن تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والی گاڑیاں عدالتی حکم کے تحت ضبط کر لی جائیں گی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے نام عوامی سطح پر شائع کیے جائیں گے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
رہائشی افراد اگر بغیر اجازت نامے کے حج کی کوشش کریں یا غیر مجاز افراد کو لے جائیں تو ان کے لیے سزا مزید سخت ہو گی۔ قید کی مدت پوری کرنے کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا اور ایک مخصوص مدت کے لیے دوبارہ سعودی عرب داخل ہونے پر پابندی لگا دی جائے گی۔
وزارت سیاحت نے واضح کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں واقع تمام ہوٹلز اور رہائشی سہولیات پر بھی لازم ہے کہ وہ صرف ان افراد کو رہائش دیں جن کے پاس حج کا اجازت نامہ یا شہر میں کام یا قیام کی باقاعدہ اجازت ہو۔
یہ ہدایات یکم ذو القعدہ 1446 ہجری بمطابق 29 اپریل 2025 سے نافذالعمل ہوں گی اور حج سیزن کے اختتام تک جاری رہیں گی۔






