
خلیج اردو
اسلام آباد: سابق ایس پی عارف شاہ کو سنینٹ ملازم حمزہ خان کے اغواء و قتل کیس میں پولیس نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جمعرات کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دوبارہ پیش کیا، جہاں عدالت نے ملزم کا مزید 4 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش میں پیش رفت کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ پراسیکیوشن نے ملزمان کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جبکہ ملزم کی جانب سے ظفر کھوکھر ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر دفاع کیا۔ عدالت نے دلائل کے بعد دونوں گرفتار ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
حمزہ خان، جو سینیٹ میں بطور اسسٹنٹ فرائض سرانجام دے رہے تھے، 16 مارچ سے لاپتہ تھے۔ ان کے خاندان نے تھانہ آبپارہ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی، جس میں بتایا گیا کہ حمزہ 15 مارچ کو اسلام آباد سے مانسہرہ روانہ ہوئے تھے تاکہ اپنے بچپن کے دوست کے والد سے ملاقات کریں، جن سے ان کا مالی تنازع چل رہا تھا۔ اگلی صبح سے ان سے رابطہ مکمل منقطع ہو گیا۔
گمشدگی کے چند روز بعد حمزہ کے بھائی وقار خان نے شک کی بنیاد پر حمزہ کے دوست اور ان کے والد، سابق ایس پی عارف شاہ، کو نامزد کیا۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لیا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ حمزہ کو خاکی کے علاقے میں گاڑی سے اتار دیا تھا۔
تاہم 15 اپریل کو اسلام آباد پولیس نے مانسہرہ پولیس کی مدد سے مقتول کی لاش کو ایک گڑھے سے برآمد کیا، جسے مٹی اور گوبر میں دفن کیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ 28 سالہ حمزہ کو ان کے دوست کے والد، سابق ایس پی عارف شاہ نے اپنے بہنوئی کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ پولیس نے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ حمزہ کے سر کے پچھلے حصے پر گولی ماری گئی تھی۔ حمزہ کے بھائی نے الزام لگایا کہ لاش کے معائنے پر پتا چلا کہ مقتول پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا، ان کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور چہرے پر شدید ضربوں کے نشانات موجود تھے۔






