Uncategorized

چین میں ٹرمپ کی تجارتی جنگ پر عوام کا طنزیہ ردعمل: میمز اور مذاق کے ذریعے اظہارِ ناراضگی

خلیج اردو
بیجنگ: چین کے سرکاری حلقے جہاں امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو سیاسی و اقتصادی طور پر "آخر تک” لڑنے کا اعلان کر رہے ہیں، وہیں چینی سوشل میڈیا صارفین نے اس تنازع پر مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر لگائی گئی بھاری درآمدی ڈیوٹیز کے جواب میں بیجنگ نے بھی جوابی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں ہلچل اور کساد بازاری کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان کی پالیسی کا مقصد امریکی صنعت کو واپس لانا اور امریکی مزدوروں کو روزگار دینا ہے۔

تاہم چین کے آن لائن صارفین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے میمز کی مدد سے امریکیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے زیرِ استعمال بیشتر سامان — جیسے جوتے اور اسمارٹ فونز — دراصل سستے چینی مزدوروں کے ہاتھوں تیار ہوتے ہیں۔

یہ میمز اور طنزیہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک صارف امریکی مصنوعات کی عدم موجودگی دکھاتے ہوئے طنزاً ہاتھ خالی دکھاتا ہے۔ یہ ویڈیوز ٹک ٹاک پر لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہیں، حالانکہ یہ ایپ چین میں سرکاری طور پر بند ہے۔

"بدھاوَانگوانگ” کے نام سے مشہور ایک چینی صارف، جو پہلے کیلیفورنیا میں مقیم تھے، نے بتایا کہ انہوں نے امریکی امتیازی سلوک اور چین سے متعلق "جھوٹی خبروں” سے تنگ آ کر اپنا گرین کارڈ پھینک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مغربی پروپیگنڈا کے خلاف ویڈیوز بنا کر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔

چین میں بہت سے افراد کے لیے یہ تصور کہ امریکی شہری اپنے جوتے یا فون خود تیار کریں، محض مذاق ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اور ایلون مسک کی فیکٹری میں کام کرتے ہوئے AI ویڈیوز بھی مقبول ہو رہی ہیں۔

ایک ویڈیو میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کی پہنی ہوئی ایک چینی لباس کو آن لائن تلاش کر کے بتایا گیا کہ یہ دراصل چین کے آن لائن پلیٹ فارم تاوباؤ سے خریدا گیا تھا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا: "’میڈ اِن چائنا‘ پر حملے کرنا کام ہے؛ مگر ’میڈ اِن چائنا‘ سے لطف اٹھانا زندگی ہے۔”

چینی مصنوعات کی براہِ راست خریداری کی ترغیب
دیگر ویڈیوز میں چینی صارفین امریکیوں کو دکھا رہے ہیں کہ وہ کیسے براہِ راست چین سے سستی اشیاء خرید سکتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص ییوو کی ایک فیکٹری میں کھڑے ہو کر امریکی ناظرین کو صرف 10 ڈالر میں سینڈل خریدنے کی پیشکش کرتا ہے۔

شنگھائی انٹرنیشنل اسٹڈیز یونیورسٹی کی پروفیسر گوین بویئر کے مطابق، ان ویڈیوز کے پیچھے طنز کے ساتھ ساتھ گہری تشویش بھی موجود ہے، خاص طور پر چین کی برآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے۔

چینی سوشل میڈیا پر اس جنگ کے نقصانات کے بارے میں بحث کو محدود کر دیا گیا ہے۔ ویبو پر "امریکہ چینی اشیاء پر 104 فیصد ٹیرف لگائے گا” جیسے ہیش ٹیگز کے نیچے تمام تبصرے ہٹا دیے گئے ہیں، جبکہ "امریکہ تجارتی جنگ لڑ رہا ہے مگر انڈوں کے لیے بھیک مانگ رہا ہے” جیسے ہیش ٹیگز کو 23 کروڑ بار دیکھا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button