
خلیج اردو
اسلام آباد – اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران اہم سوالات اٹھائے گئے، جب سنگل بنچ کے سامنے کیس کی سماعت پر اعتراض کیا گیا۔ جسٹس انعام امین مہناس نے حیرت کا اظہار کیا کہ لارجر بنچ کے حکم کے باوجود کیس سنگل بنچ کے سامنے کیسے لگ گیا۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے 23 مارچ کا لارجر بنچ کا فیصلہ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ اس پر جسٹس انعام امین مہناس نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ فیصلہ لارجر بنچ نے دیا تھا اور اسی فیصلے کی توہین ہوئی ہے، تو پھر یہ کیس اسی لارجر بنچ کو ہی سننا چاہیے۔
انہوں نے کہا، "یہ معاملہ لارجر بنچ کا ہے، پھر یہ میرے سامنے کیسے آگیا؟ میں آفس سے رپورٹ منگواتا ہوں کہ یہ کیس میرے پاس کیوں لگا۔”
عدالت نے رجسٹرار آفس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ لارجر بنچ کے دائرہ اختیار میں آنے والا کیس سنگل بنچ کے سامنے کس بنیاد پر مقرر کیا گیا۔






