خلیج اردو
اسلام آباد – وفاقی دارالحکومت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر عائد بھاری ٹیکسز نے حکومت کے محصولات کو شدید متاثر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت کے ریونیو میں 90 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ گین ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، شٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس میں غیرمعمولی کمی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ پانچ سالہ ریونیو کی تقابلی رپورٹ پیش کی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث رئیل اسٹیٹ لین دین میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پچھلے چند سالوں میں جہاں ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے اربوں روپے کی آمدن ہوتی تھی، اب وہ محض چند کروڑ تک محدود ہو چکی ہے۔ سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے بھاری ٹیکسز کے باعث سرمایہ کاری روک دی ہے، جس کے سبب ایف بی آر کی وصولیوں میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے پر غور کر رہی ہے اور ایف بی آر کو ممکنہ اصلاحات کی تجاویز بھیجی گئی ہیں تاکہ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی بحالی کے ساتھ ساتھ محصولات میں بہتری لائی جا سکے۔






