
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں متعارف کرائے گئے ڈائنامک ٹول نظام کے نتیجے میں شیخ زاید روڈ پر ٹریفک کا دباؤ 9 فیصد کم ہوگیا ہے۔ دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ 31 جنوری 2025 سے نافذ ہونے والے اس نظام کے تحت مصروف اوقات میں فی گاڑی 6 درہم اور غیر مصروف اوقات میں 4 درہم وصول کیے جا رہے ہیں۔
اسی تسلسل میں اپریل سے متغیر پارکنگ ٹیرف بھی لاگو کیے گئے، جس کے تحت پریمیم عوامی پارکنگ کی فی گھنٹہ قیمت مصروف اوقات میں 6 درہم کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات دبئی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل کا پائیدار حل فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جن کا ہدف ٹریفک کی روانی میں 20 سے 30 فیصد بہتری لانا ہے۔
RTA کے ڈائریکٹر جنرل اور ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین مطر الطایر نے "کنیکٹنگ برجز” کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ کے دوران کہا کہ دبئی کی تیز رفتار شہری ترقی نے دیگر عالمی شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دبئی کی آبادی گزشتہ دہائی میں سالانہ اوسطاً 6 فیصد بڑھی ہے، جو عالمی اوسط 1.1 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، اور 2040 تک دبئی کی دن کے وقت کی آبادی 80 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
الطایر نے مزید کہا کہ 2024 میں دبئی میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 25 لاکھ ہو چکی ہے، جو پورے ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں کا نصف ہے۔ انہوں نے مختلف قومیتوں کی ڈرائیونگ عادات، سفر کی منصوبہ بندی کا فقدان، اور مصروف اوقات سے ناواقفیت کو بھی ٹریفک کے دباؤ کی بڑی وجوہات قرار دیا۔
ورکشاپ کے دوران بتایا گیا کہ اگلے تین برسوں میں 40 ارب درہم سے زائد کی لاگت سے 30 سے زائد روڈ اور ٹرانسپورٹ منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ ان میں دبئی میٹرو بلیو لائن شامل ہے، جو 9 اہم اضلاع کو سہولت فراہم کرے گی اور ان علاقوں میں ٹریفک دباؤ میں 20 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
دبئی کی ٹریفک حکمت عملی میں دور دراز سے کام، لچکدار اوقات، تقسیم شدہ اسکول ٹائم، اور فاصلاتی تعلیم جیسے اقدامات بھی شامل ہیں تاکہ روڈ نیٹ ورک پر بوجھ کم ہو۔
واسل گروپ کے چیف رئیل اسٹیٹ آفیسر راشد محمد نے ورکشاپ میں سستے مکانات کو ملازمت کے مراکز کے قریب تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ لمبے سفر کی ضرورت کم ہو اور ٹریفک میں کمی آئے۔







