پاکستانی خبریں

پشاور ہائیکورٹ کا عمان سے آئی خاتون سمیت 5 لاپتہ افراد کی بازیابی کا حکم

خلیج اردو
پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر تیسری بار سماعت کی گئی، جس کی سربراہی جسٹس اعجاز انور، جسٹس ارشد علی اور جسٹس صاحب زادہ اسد اللہ نے کی۔

ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ تھوڑی دیر میں ایف آئی آر درج کر لیں گے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہمارے پاس بندے موجود نہیں ہیں، اگر ہوتے تو پیش کرتے۔” اس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ "ہم اس کے لیے فل کورٹ بناتے ہیں”، اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ "آپ ایف آئی آر درج کر سکتے تھے، لیکن آج تک ایف آئی آر درج نہیں کیا”، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ "آپ یہ پریکٹس ختم کر لیں کہ پہلے بندی کو گرفتار کرتے ہیں اور بعد میں ایف آئی آر درج کرتے ہیں۔”

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل سے کہا کہ "آج تک آپ نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ خاتون کس کیس میں ملوث ہے۔” اس کیس میں خاتون بھی لاپتہ ہے، اور عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایف آئی آر درج کرنا ضروری تھا۔

جسٹس ارشد علی نے کہا کہ "آپ ایف آئی آر درج کریں لیکن گرفتاری کے لیے عدالت سے اجازت لیں۔” عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کا حکم دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button