
خلیج اردو
دبئی: پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کراچی اور لاہور کی فضائی حدود جزوی طور پر بند کیے جانے کے بعد متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اور بھارتی باشندے شدید بے چینی کا شکار ہیں، اور کئی افراد نے اپنے سفری منصوبوں میں تبدیلی یا منسوخی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق یکم مئی سے 31 مئی تک روزانہ صبح 4 بجے سے 8 بجے تک (پاکستانی وقت کے مطابق) کراچی اور لاہور کے فضائی زونز بند رہیں گے، جو متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق 3 سے 7 بجے صبح کے درمیان ہوگا۔ اگرچہ یہ وقت عمومی کمرشل پروازوں کا مصروف وقت نہیں، تاہم شہریوں کے لیے اصل مسئلہ پروازوں کی تاخیر نہیں بلکہ خطے کی بگڑتی صورتحال اور غیر یقینی حالات ہیں۔
دبئی میں مقیم پاکستانی شہری عدنان نے اپنی بیوی اور بچوں کو مئی کے وسط میں بلانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہوں نے فوری طور پر ٹکٹس میں تبدیلی کر لی۔
عدنان نے بتایا: "میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔ ملکوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے پریشان ہوں، اسی لیے چاہا کہ میری فیملی جلدی آ جائے تاکہ سب ساتھ رہیں۔”
شارجہ کی ایک اسکول ٹیچر ثمینہ خان نے لاہور میں اپنے کزن کی شادی کے لیے سفر کرنا تھا، لیکن اب انہوں نے اپنا سفر ملتوی کر دیا ہے۔
ثمینہ نے کہا: "جس طرح سے بھارت اور پاکستان کے درمیان صورتحال گھمبیر ہو رہی ہے، اور اب فضائی حدود کی بندش بھی سامنے آئی ہے، اس سب میں سفر کا سوچنا مشکل ہے۔”
ابوظبی میں مقیم بھارتی شہری راہول دھر نے ان کشیدگیوں کو ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے جوڑا۔
"یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ہمارے بہت سے دوست دونوں ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب صرف امن چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ زندگی ایسی غیر یقینی کیفیت میں گزرے۔”
سفر کے حوالے سے کام کرنے والے ماہرین کے مطابق صبح کے اوقات میں بندش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی کا خدشہ نہیں، البتہ پروازوں کے راستے بدلنے اور آپریشنل تبدیلیوں کی وجہ سے کرایوں میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
وائزفاکس ٹورازم کے سینئر منیجر سبیئر تھیکے پوراتھ والا پل نے کہا: "پروازیں متبادل راستے سے چلیں گی، جس سے وقت میں معمولی فرق پڑے گا۔ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو کرایوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔”
فی الحال یو اے ای میں مقیم بیشتر افراد صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن کی امید کر رہے ہیں۔







