
خلیج اردو
دبئی – ایم جی ایم ریزورٹس انٹرنیشنل کے صدر اور سی ای او ولیم ہورن بکل نے تصدیق کی ہے کہ دبئی میں زیر تعمیر ایم جی ایم ٹاور 2027 کی تیسری سہ ماہی میں کھلنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم فی الحال عمارت کی پانچویں منزل پر کام کر رہے ہیں، یہ ایک دلچسپ منصوبہ ہے جس میں مختلف خصوصیات شامل ہوں گی، اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہم گیمنگ بھی شامل کر سکیں گے۔”
یاد رہے کہ 2017 میں دبئی کی واسل ہاسپیٹیلٹی اینڈ لیزر نے ایم جی ایم ہاسپیٹیلٹی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ایم جی ایم دبئی میں ایک جدید ریزورٹ کی ترقی میں مشاورت فراہم کرے گا اور مکمل ہونے پر اس کا انتظام بھی سنبھالے گا۔
یہ 26 ایکڑ پر محیط ساحلی ترقیاتی منصوبہ ایم جی ایم ہوٹل، ایم جی ایم رہائش گاہوں اور بیلاجیو ہوٹل پر مشتمل ہوگا۔ اس منصوبے کے ذریعے ایم جی ایم اور بیلاجیو برانڈز پہلی بار مشرق وسطیٰ میں داخل ہوں گے۔
گزشتہ ماہ ایم جی ایم کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس میں چیئرمین پال سیلم بھی شامل تھے، نے دبئی کا دورہ کیا اور دبئی کے پہلے نائب حکمران، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خزانہ شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی۔
ولیم ہورن بکل نے کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد متحدہ عرب امارات، بالخصوص دبئی میں موجود مواقع سے حکومت کو آگاہ کرنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم جی ایم کا دبئی میں واسل ہاسپیٹیلٹی کے ساتھ ایک "نان-گیمنگ” معاہدہ ہے، جس کے تحت بیلاجیو، آریا اور ایم جی ایم گرانڈ برانڈز لائے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے سالوں میں متحدہ عرب امارات میں گیمنگ مارکیٹ کا حجم 3 سے 5 ارب ڈالر (تقریباً 11 سے 18.35 ارب درہم) تک پہنچنے کا امکان ہے۔
متحدہ عرب امارات میں گیمنگ کے حوالے سے سب سے پہلا مکمل منصوبہ راس الخیمہ میں تعمیر ہونے والا "ون المرجان” ریزورٹ ہے، جسے گزشتہ سال جنرل کمرشل گیمنگ ریگولیٹری اتھارٹی (GCGRA) سے لائسنس ملا۔ اس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور اسے 2027 کے اوائل میں کھولنے کا منصوبہ ہے۔







