
خلیج اردو
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے بائیکاٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں کوئی ذمہ دار شخصیت موجود ہی نہیں تھی، "ہم کس کے سامنے بانسری بجاتے؟”
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی بھی ملک کی فوج قوم کی حمایت کے بغیر نہیں لڑ سکتی، مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز پارلیمان میں دی گئی بریفنگ کو بھی غیر سنجیدہ قرار دیا اور کہا کہ نہ کسی پارٹی کو، نہ پارٹی قیادت کو اس حساس صورتحال کا علم ہے۔
جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ بھارت جنگ چاہتا ہے لیکن خود اس کے عوام اس کی پالیسیوں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہم کسی قسم کے اقدامات کرتے ہیں تو وہ داخلی سطح پر تقسیم کا تاثر دیں گے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے حکومتی رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اتحاد و یکجہتی کا ہے مگر ایوان سنجیدہ قیادت سے خالی ہے۔






