
خلیج اردو
دبئی: دبئی کے مختلف علاقوں خصوصاً دیرۃ میں نجی پارکنگ فیسوں میں اچانک دوگنا اضافہ شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گیا ہے، جہاں پارکنگ کی قلت اور آر ٹی اے کے نرخوں میں حالیہ تبدیلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی مالکان من مانے ریٹس وصول کر رہے ہیں۔
المکتوم روڈ پر چاولوں کے تاجر حامد ہاشم، جو الورقاء میں رہائش پذیر ہیں اور اپنا کاروبار الرأس میں چلاتے ہیں، نے بتایا کہ وہ پہلے روزانہ 16 درہم آر ٹی اے کی زون اے میں پارکنگ پر خرچ کرتے تھے، لیکن ہر روز پارکنگ ڈھونڈنے میں ایک گھنٹہ ضائع ہو جاتا تھا۔
اس پریشانی سے بچنے کے لیے انہوں نے گزشتہ دسمبر میں قریب ہی ایک نجی پارکنگ کا انتخاب کیا اور 20 درہم روزانہ کے حساب سے ایک جگہ طے کر لی۔ تاہم، یکم مئی کو انہیں اچانک بتایا گیا کہ اب یہ فیس 40 درہم روزانہ یا 650 درہم ماہانہ ہو چکی ہے۔
یہ مسئلہ صرف حامد تک محدود نہیں۔ دیرۃ اور گرد و نواح میں درجنوں رہائشیوں، دکانداروں اور تاجروں نے حالیہ ہفتوں میں پارکنگ فیس میں اضافے کی شکایات کی ہیں، جہاں فی گھنٹہ چارجز 15 سے 35 درہم تک جا پہنچے ہیں۔
نجی پارکنگ کا انتخاب کیوں؟
آر ٹی اے کے پبلک پارکنگ ایریاز اکثر بھرے ہوتے ہیں، جس کے باعث شہری آدھے گھنٹے سے زائد وقت تک جگہ ڈھونڈنے میں لگا دیتے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں نہ صرف ایندھن کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ ٹریفک جام بھی بڑھتا ہے۔
متبادل نہ ہونے کی وجہ سے شہری مجبوری میں مہنگی اور غیر لچکدار نجی پارکنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔
کوئی رعایت نہیں، کوئی ضابطہ نہیں
پارکنگ استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں، اور محض ایک منٹ کی دیر پر بھی اضافی گھنٹے کی فیس لی جاتی ہے۔
بلال احمد، جو روزانہ سفر کرتے ہیں، نے بتایا کہ وہ پہلے فی گھنٹہ 5 درہم دیتے تھے، اب 10 درہم دینا پڑ رہے ہیں۔ "اگر سوال کریں تو عملہ بدتمیزی پر اتر آتا ہے،” انہوں نے کہا۔
اسی طرح، فاطمہ ایس، جو ہفتے میں دو بار کلینک جاتی ہیں، نے بتایا کہ صرف پانچ منٹ کی تاخیر پر ان سے 30 درہم وصول کیے گئے۔ "پوچھنے پر اٹینڈنٹ چیخنے لگا اور گاڑی کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
پارکنگ مالکان کی صفائی اور شہریوں کا مطالبہ
جب خلیج ٹائمز نے اس اضافے کے بارے میں پوچھا تو مالکان نے بتایا کہ عمارتوں کا کرایہ بڑھ گیا ہے، اس لیے فیس بھی بڑھانا پڑی۔ "ہم کوئی منافع نہیں کما رہے،” ایک آپریٹر نے کہا۔
تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ضابطے نہ ہونے کی وجہ سے پارکنگ مالکان من مانی کرتے ہیں۔ "کوئی ضابطہ نہیں، کوئی قانون نہیں۔ اگر سوال کرو تو گاڑی اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی دھمکی دے دیتے ہیں،” احمد نے کہا۔
شہریوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ نجی پارکنگ پر بھی مناسب ضابطے لاگو کیے جائیں۔
"جیسے کرایوں پر کنٹرول ہے، پارکنگ فیس بھی ریگولیٹ ہونی چاہیے،” حامد ہاشم نے مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا، "یہ صرف دیرۃ کا مسئلہ نہیں، ہر اس شخص کو متاثر کرتا ہے جو یہاں کام کرتا ہے، خریداری کرتا ہے یا صرف یہاں آتا ہے۔”







