
خلیج اردو
راس الخیمہ، جو طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات کا پوشیدہ موتی سمجھا جاتا ہے، اب نہ صرف پر سکون سیاحت کے لیے آنے والے مسافروں بلکہ متوازن، کمیونٹی پر مبنی اور قدرتی حسن سے جڑی زندگی گزارنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کے لیے بھی دنیا کی سب سے خوش آئند منزل بنتا جا رہا ہے۔
اس امارت کا سادہ اور سکون بخش ماحول، دلکش قدرتی مناظر اور دوستانہ مقامی کمیونٹی غیر ملکی باشندوں اور سیاحوں دونوں کے لیے کشش کا باعث بن رہے ہیں۔ برطانیہ سے آنے والی سیاح عطیہ خان کے مطابق، راس الخیمہ نے انہیں پہلی بار مکمل طور پر خود سے جڑنے اور روزمرہ زندگی سے کٹنے کا موقع دیا۔ "میں عام طور پر ابوظبی جاتی ہوں، لیکن اس بار کچھ نیا، پرسکون اور خاموش مقام ڈھونڈ رہی تھی۔ راس الخیمہ بار بار میرے سامنے آیا تو میں نے خود دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی پہنچی، وہاں کی مہمان نوازی نے میرے سفر کا لہجہ طے کر دیا۔”
ان کے دورے میں پر سکون کشتی کی سیر سے لے کر پیرا گلائیڈنگ جیسے سنسنی خیز تجربات شامل تھے۔ "یہ ابوظبی جیسا ہی محسوس ہوا مگر زیادہ سادہ، بغیر ہجوم اور عجلت کے، صرف قدرت اور مہربانی کے ساتھ”، انہوں نے بتایا۔ ان کا واحد افسوس یہ تھا کہ وہ زیادہ دیر نہ رہ سکیں۔ "میں ضرور دوبارہ آؤں گی، کیونکہ یہاں ہوٹل سے باہر بھی دریافت کرنے کو بہت کچھ ہے — قدرتی عجائبات سے لے کر ثقافتی تجربات تک۔”
غیر ملکیوں کے لیے ایک متوازن طرز زندگی
غیر ملکی باشندوں کے لیے راس الخیمہ صرف ایک خوبصورت منظرنامہ نہیں بلکہ ایک مکمل زندگی گزارنے کا مقام بن چکا ہے۔ ترک شہری جنک یوکسل، جو سات ماہ قبل راس الخیمہ منتقل ہوئے، نے یہاں ایک ایسا توازن پایا جس میں پیشہ ورانہ ترقی اور ذاتی سکون دونوں شامل ہیں۔ "مجھے قدرتی حسن، ثقافتی سادگی، اور کیریئر کے مواقع نے یہاں کھینچا۔ یہاں کی غیر ملکی برادری مضبوط ہے اور تعلقات بنانا آسان۔”
اسی طرح، آرمینیائی تاجر لورِس مینسیانز نے 2009 میں RAKEZ کے ذریعے کاروبار کا آغاز کیا، اور 2020 میں مستقل طور پر راس الخیمہ کو اپنا گھر بنا لیا۔ "یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں حقیقی زندگی محسوس ہوتی ہے — ہمسایوں سے بات چیت، دکان داروں سے علیک سلیک، اور مقامی گھروں میں خوش آمدید کہا جانا”، انہوں نے بتایا۔
یہی احساس بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔ حالیہ انٹرنیشنز سروے میں راس الخیمہ کو دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شامل کیا گیا ہے جہاں غیر ملکی سب سے زیادہ گھر جیسا محسوس کرتے ہیں — اور عرب دنیا میں پہلے نمبر پر۔
راس الخیمہ حکومت کے ترجمان نے کہا: "ہمیں فخر ہے کہ راس الخیمہ دنیا کے ان پانچ بہترین شہروں میں شامل ہے جہاں غیر ملکی خود کو سب سے زیادہ گھر محسوس کرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرتی جذبے، مہمان نواز ثقافت، اور یہاں کے معیارِ زندگی کا مظہر ہے۔”
راس الخیمہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او راکی فلپس نے بھی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا: "یہ ہماری منفرد سیاحتی پیشکشوں کا نتیجہ ہے — پہاڑی مہمات، فطری مناظر، صحرا اور ساحلی مقامات — ہم زندگی گزارنے کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ راس الخیمہ مستقبل میں بھی دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام پر رہے۔”






