متحدہ عرب امارات

شارجہ: نجی اداروں سے معذور یا بیمار بچوں کی ماؤں کو 3 سال تک رخصت دینے کی اپیل

خلیج اردو
شارجہ، 14 مئی 2025: شارجہ میں سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی انقلابی ‘کئیر لیو’ پالیسی کے تحت معذور یا دائمی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی ماؤں کو تین سال تک کی تنخواہ سمیت رخصت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اب نجی اداروں اور دیگر شعبوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بھی ایسی پالیسیوں کو اپناتے ہوئے کام کرنے والی ماؤں کے لیے زیادہ لچکدار اور معاون ماحول فراہم کریں۔

ناما ویمن ایڈوانسمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل مریم الحمادی نے خلیج ٹائمز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شارجہ کی اس پیش رفت کو بھرپور کامیابی دینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام شعبوں میں آجروں کی جانب سے لچکدار اور ہمدردانہ پالیسیوں کو فروغ دیا جائے۔

مریم الحمادی نے کہا، ’’ایسی پالیسیاں جیسے کہ لچکدار اوقات کار، ریموٹ یا ہائبرڈ ماڈلز، کام کے بوجھ میں کمی اور جاب شیئرنگ، ماؤں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور دیکھ بھال کے فرائض کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘‘

شیخ ڈاکٹر سلطان القاسمی، حکمران شارجہ کی ہدایت پر متعارف کرائی گئی یہ کئیر لیو پالیسی، شارجہ کی سرکاری شعبے کی خواتین کو ایک سال کی مکمل تنخواہ کے ساتھ چھٹی فراہم کرتی ہے، جس میں تین سال تک توسیع کی جا سکتی ہے۔ الحمادی کے مطابق یہ پالیسی شارجہ کو ایک عالمی ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے، جو ناما اور شارجہ سٹی فار ہیومینیٹرین سروسز کی دو سالہ تحقیق کے بعد تشکیل دی گئی۔

ناما کی سفارشات کو شیخہ جواہر القاسمی نے شیخ سلطان القاسمی کے سامنے پیش کیا، جس پر انہوں نے فوری طور پر اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ پالیسی جاری کی۔

الحمادی نے کہا کہ نجی شعبے میں بھی اس جیسے اقدامات کا اپنانا شارجہ کے اس وژن کو مزید مضبوط کرے گا جو ماؤں کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف رخصت پالیسی کافی نہیں، بلکہ ایک معاون اور ہمدردانہ دفتر کا ماحول تشکیل دینا ہوگا جو کام کرنے والی ماؤں کی حقیقت کو سمجھے۔

انہوں نے وزارت انسانی وسائل و امارات کاری  کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کی ماؤں میں سے 2,545 مائیں ملازمت کر رہی ہیں، 5,361 بے روزگار ہیں جبکہ 352 ریٹائر ہو چکی ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ہے کہ یہ مائیں مالی یا پیشہ ورانہ تحفظ کی قربانی دیے بغیر اپنے بچوں کی دیکھ بھال کو ترجیح دے سکیں۔

پالیسی کی مؤثریت کو یقینی بنانے کے لیے ناما ماؤں سے براہ راست رائے حاصل کرنے کے لیے فیلڈ ریسرچ کرے گا۔

ناما کا وژن خواتین کے لیے ایک جامع ماحول کی تعمیر ہے، جس میں آئندہ کی سفارشات میں عارضی نگہداشت کے لیے ریموٹ ورک کی سہولت اور معذور بچوں کے لیے عوامی نرسریوں کی استعداد بڑھانا شامل ہیں۔ الحمادی نے کہا کہ ایسی ماؤں کی مدد کرنا صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے جو شمولیتی معاشی ترقی اور قومی انسانی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو فروغ دیتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کام کرنے والی ماؤں کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button