متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ہنگامی صورتحال میں ڈاکٹروں کو ٹریفک جرمانے سے استثنیٰ، ڈرائیورز کو راستہ دینے کی اپیل

خلیج اردو
ابوظہبی، 14 مئی 2025: متحدہ عرب امارات میں وزارت داخلہ کی جانب سے ایک انقلابی اقدام ‘بن وریقا’ کے تحت 13 اہم طبی شعبوں سے وابستہ ڈاکٹروں کو خصوصی ٹریفک سہولیات دی گئی ہیں۔ اس سہولت کے تحت یہ ڈاکٹر ہنگامی صورتحال میں قانونی حد رفتار سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تیز گاڑی چلا سکتے ہیں، سڑک کے کنارے استعمال کر سکتے ہیں، اور ٹریفک اہلکاروں کی جانب سے فوری تعاون حاصل کر سکتے ہیں۔

جب کوئی اسپتال ایمرجنسی الرٹ جاری کرتا ہے تو متعلقہ ڈاکٹر ایپ کے ذریعے سروس کو فعال کرتا ہے، جس کے بعد وزارت کی آپریشنز روم راستے کی نگرانی کرتی ہے اور ٹریفک اہلکاروں کو فوری روانہ کرتی ہے تاکہ محفوظ اور ہموار راستہ یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر کو روانگی سے پہلے گاڑی پر خصوصی سہ رخی ٹیبلٹ آلہ نصب کرنا بھی لازمی ہے تاکہ دیگر ڈرائیورز کو الرٹ کیا جا سکے۔

یہ اقدام جولائی 2020 میں متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان کی جانب سے باقاعدہ شروع کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کی اسمارٹ ایپلی کیشن کے ذریعے دستیاب یہ سروس ہنگامی صورتحال میں ڈاکٹروں کی تیز، محفوظ اور بغیر رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے شروع کی گئی، تاکہ انسانی جانوں کو بچانے اور فرنٹ لائن طبی عملے کی مدد کی جا سکے۔

سروس ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل ڈاکٹر سعید محمد الظہوری نے اس پروگرام کے پیچھے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’اگرچہ یہ سہولت بظاہر ڈاکٹروں کی آسانی کے لیے ہے، لیکن حقیقت میں اصل فائدہ مریضوں کو پہنچتا ہے جن کی زندگی اس بات پر منحصر ہو سکتی ہے کہ ڈاکٹر کتنی جلدی پہنچتا ہے۔‘‘

‘بن وریقا’ سروس 13 اہم طبی شعبوں کے ڈاکٹروں کو ہدف بناتی ہے اور اس میں شامل ہونے کے لیے ڈاکٹروں کو سخت شرائط پوری کرنی پڑتی ہیں جن میں میڈیکل لائسنس، پیشگی منظوری، اور خصوصی ایمرجنسی ڈرائیونگ کورس شامل ہیں۔

ڈاکٹروں کی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹ اور سہ رخی ڈسپلے نصب ہوتے ہیں تاکہ دیگر ڈرائیورز فوری طور پر سمجھ سکیں کہ انہیں راستہ دینا ضروری ہے۔ کرنل الظہوری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ‘بن وریقا’ رجسٹرڈ گاڑی دیکھ کر فوری راستہ دیں کیونکہ یہ صرف گاڑی نہیں بلکہ کسی کی جان بچانے کا مشن ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتی قرارداد نمبر 248 برائے 2020 کے تحت اس پروگرام کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس میں بس لین اور ہارڈ شولڈر کے استعمال کی اجازت بھی شامل ہے تاکہ پروگرام ضوابط کے دائرہ کار میں رہے۔

اس پروگرام کی شروعات کے بعد ڈاکٹروں کی 97 فیصد سے زائد شمولیت دیکھنے میں آئی ہے، اور وزارت اب اس پروگرام کو دیگر طبی شعبوں تک توسیع دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کرنل الظہوری نے کہا کہ ہم نے رسپانس ٹائم کو 30 فیصد تک کم کیا ہے اور ڈاکٹروں اور اسٹیک ہولڈرز کی آراء کی بنیاد پر مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ خلیجی ممالک کے حکام نے بھی اس انوکھے اقدام میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button