خلیج اردو
دبئی، 22 مئی 2025
دبئی کی سڑکوں پر خواتین ڈرائیورز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو نہ صرف سماجی رویوں میں تبدیلی کی علامت ہے بلکہ امارات میں بڑھتی ہوئی خواتین کی نقل و حرکت کا مظہر بھی ہے۔
وزارت داخلہ کے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2024 کے دوران متحدہ عرب امارات میں خواتین کو مجموعی طور پر 1 لاکھ 61 ہزار 704 نئی ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے۔ اسی مدت میں مرد ڈرائیورز کو 2 لاکھ 21 ہزار 382 لائسنس جاری ہوئے۔
صرف دبئی میں گزشتہ سال خواتین کو جاری کیے گئے لائسنسز کی تعداد 1 لاکھ 5 ہزار 568 رہی، جبکہ مردوں کو جاری کردہ لائسنس محض 6 ہزار 903 تھے، جو ایک حیران کن فرق ظاہر کرتا ہے۔
دیگر امارات میں لائسنس کے اعدادوشمار
ابوظہبی میں سال 2024 کے دوران 1 لاکھ 47 ہزار 334 لائسنس جاری کیے گئے، جن میں سے مرد ڈرائیورز کو 1 لاکھ 20 ہزار 363 اور خواتین کو 26 ہزار 971 لائسنس ملے۔
شارجہ میں بھی کل 65 ہزار 195 لائسنس جاری ہوئے، جن میں خواتین کو 15 ہزار 653 اور مردوں کو 49 ہزار 542 لائسنس جاری کیے گئے۔
خواتین کی ڈرائیونگ اور سڑکوں پر محفوظ رویہ
روڈ سیفٹی یو اے ای (RoadSafetyUAE) کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق خواتین ڈرائیورز مردوں کے مقابلے میں حادثات میں کم ملوث پائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین ڈرائیورز عمومی طور پر محفوظ ڈرائیونگ عادات اپناتی ہیں، جن میں بہتر وقت کا انتظام، سیٹ بیلٹ کا استعمال، کم غصہ، اور موبائل فون کا کم استعمال شامل ہیں۔
مزید برآں، خواتین قوانین کی پاسداری میں زیادہ سنجیدہ ہوتی ہیں اور جارحانہ رویے کی شرح بھی کم دیکھی گئی ہے۔
روڈ سیفٹی یو اے ای کے بانی تھامس ایڈلمن نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “خواتین ڈرائیورز کی احتیاط پسند فطرت کو عموماً سراہا نہیں جاتا، حالانکہ اعدادوشمار ان کی محفوظ ڈرائیونگ کی عکاسی کرتے ہیں۔”
خواتین ڈرائیورز کے تجربات
دبئی کی 27 سالہ رہائشی حلیمہ، جنہوں نے 2016 میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا، نے بتایا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتی ہیں اور ڈرائیونگ کے دوران حفاظت کو ترجیح دیتی ہیں۔
“سال بھر میں شاذ و نادر ہی چالان ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ چار ہوتے ہیں، جو میں فوراً ادا کر دیتی ہوں تاکہ جمع نہ ہوں،” حلیمہ نے بتایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “البرشاء سے دیرۃ تک روزانہ سفر کے دوران ٹریفک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ کئی بار ڈرائیورز ناجائز جگہ میں گاڑی گھسانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے شدید خطرہ ہوتا ہے۔”
حلیمہ نے یہ بھی بتایا کہ اب تک ان کے ساتھ صرف دو چھوٹے حادثات پیش آئے، جن میں غلطی دوسرے ڈرائیورز کی تھی۔







