متحدہ عرب امارات

دُبئی پولیس نے پاکستانی ماں کو بچھڑے بیٹے سے مِلا کر ایک بار پھر دل جیت لیے

ثناء کلیم خان میڈیکل ایمرجنسی کے باعث پاکستان گئی تھی ، جس کے بعد وہ 45روز تک وہیں پھنسی رہی،دُبئی پولیس کے سربراہ نے معاملہ سامنے آنے پر خصوصی طور پرفوراً مدد کی

دُبئی والے واقعی باکمال لوگ ہیں۔ انسانیت نوازی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال حالیہ دنوں سامنے آئی ہے جب دُبئی پولیس کے سربراہ نے انسانی ہمدردی کی بناء پر ایک پاکستانی خاتون کی پُکار سُنتے ہوئے اسے فوری طور پر امارات واپسی کے لیے انٹری پرمٹ بنوا دیا۔ ان کی جانب سے نیکی کا یہ کام پاکستانی خاتون ثناء کلیم خان کی کہانی گلف نیوز پر شائع ہونے کے بعد کی گئی۔

تفصیلاب کے مطابق ثناء کلیم کراچی کی رہائشی ہے جو کئی سالوں سے دُبئی میں مقیم ہے۔ اسے ایک میڈیکل ایمرجنسی کے باعث 20 اپریل کو پاکستان جانا پڑا۔ جس کے بعد کورونا وبا کے باعث پروازوں کا سلسلہ معطل ہو گیا۔ ثناء اپنے ڈھائی سال کے بیٹے کو اپنے شوہر کے پاس دُبئی میں ہی چھوڑ کر گئی تھی۔

پروازوں پر پابندی کے باعث وہ اپنے بیٹے سے بچھڑ کر رہ گئی اور کئی بار اسے یاد کر کے رونے لگتی اور اسے گلے لگانے کو ترس جاتی۔

ثناء نے گلف نیوز کو بتایا کہ میرا خیال تھا میں چند روز میں ہی واپس امارات لوٹ آؤں گی، مگر پروازیں بند ہونے کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ میں پینتالیس روز تک پاکستان میں ہی پھنسی رہی۔ میں نے انٹری پرمٹ کے لیے بھی اپلائی کیا، مگر میری درخواست رد کر دی گئی۔ آخر دُبئی میں ہی مقیم میری نند نے گلف نیوز سے رابطہ کر کے میرے حوالے سے 31 مئی کو خبر چھپوائی۔

میری کہانی جب دُبئی پولیس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ خلیف المری کی نظروں سے گزری تو انہوں نے میرے لئی خصوصی طور پر فوری طور پر انٹری پرمٹ کا اجراء کروایا۔ایمریٹس کی جس فلائٹ کے ذریعے میری 6 جُون کو واپسی ہوئی، اس میں میرے علاوہ بس ایک اور مسافر تھا۔ جب میں ایئر پورٹ پر اُتری تو یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرا استقبال کرنے والوں میں میرے شوہر کلیم کے علاوہ دُبئی پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے۔

مجھے ضوابط کے مطابق 14 روز قرنطینہ میں گزارنے کے لیے ایک ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ میں نے ابھی تک اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا، اور میں ایک ایک دن گِن رہی ہوں، مگر جیسے ہی قرنطینہ کی مُدت ختم ہو گی، میرا بیٹا میری آغوش میں ہو گا۔ ثناء کلیم نے اس کی امارات واپسی کے لیے خصوصی مہربانی کرنے پر دُبئی پولیس اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ خلیفہ المری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، انہوں نے مجھ پر بڑی مہربانی کی ہے۔ انہی کی بدولت میں اپنے گھر والوں سے مِل پائی ہوں۔ثناء کے خاوند کلیم نے بتایا کہ اسے اپنی ملازمت کے باعث بچے کا خیال رکھنے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔بچہ اپنی ماں سے فون سے بات کرتے وقت رو پڑتا اور یہی پوچھتا کہ وہ کب واپس آ رہی ہے۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button