متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے کیسز میں اضافہ

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت 51.6 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے بعد اسپتالوں اور طبی مراکز میں ہیٹ اسٹروک، ہیٹ ایکسہاسشن اور پانی کی کمی کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق متاثرہ افراد میں متلی، قے، چکر آنا اور تھکن عام علامات کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

لائف کیئر اسپتال مصفّحہ کے کنسلٹنٹ ایمرجنسی میڈیسن ڈاکٹر کارتھی کیان چنّیاہ نے بتایا کہ "ہم اب زیادہ تعداد میں ایسے مریض دیکھ رہے ہیں جو گرمی میں کام کرنے کے باعث ہیٹ ایکسہاسشن کا شکار ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ سائے میں کام کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔”

ایسٹر اسپتال منخول کی ڈاکٹر جیوتی اپادھیائے نے کہا کہ زیادہ تر کیسز مناسب احتیاطی تدابیر سے بچائے جا سکتے تھے۔ "ہم نے پانی کی کمی، سن برن اور شدید صورتوں میں ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں اضافہ دیکھا ہے۔ ان سے بچنے کے لیے پانی کی وافر مقدار، دھوپ سے بچاؤ اور وقت پر آرام بہت اہم ہے۔”

ہفتہ کے روز ملک بھر میں درجہ حرارت 51.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو اس سیزن کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے، اور یہ شدید گرمیوں کی قبل از وقت شروعات کی علامت ہے۔

بچوں کو زیادہ خطرہ
مترو میڈیکل سینٹر عجمان کے ماہر اطفال ڈاکٹر جمال الدین ابو بکر کے مطابق گرمی کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی بھی خطرناک ہے۔ "جب نمی 75 فیصد سے زیادہ ہو جائے تو جسم کی سب سے اہم ٹھنڈک کا عمل، یعنی پسینے کا بخارات میں تبدیل ہونا، مؤثر نہیں رہتا، جس سے جسم کے زیادہ گرم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔”

شارجہ کے رہائشی محمد نے بتایا کہ ان کی 4 سالہ بیٹی گرمی کے باعث شدید قے کا شکار ہو گئی۔ "وہ دو گھنٹے کھیلنے کے بعد واپس آئی اور فوراً قے شروع ہو گئی، ہم فوراً اسپتال لے گئے، جہاں اسے فوری طور پر پانی کی کمی دور کرنے والی دوا دی گئی۔”

ڈاکٹر جمال الدین نے کہا کہ بچوں کے جسم میں پسینے کے غدود بالغوں کی نسبت کم ہوتے ہیں، جس سے ان کے جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ "اگر کوئی بچہ پسینہ، سردرد، تھکن یا قے کا شکار ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔”

احتیاطی تدابیر
ڈاکٹر کارتھی کیان کے مطابق گرمی سے بچنے کے لیے ہلکے اور روئی کے کپڑے پہننے چاہئیں، کالا رنگ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس سے اجتناب کیا جائے۔ پانی کی بوتل ہر وقت ساتھ رکھیں اور الیکٹرولائٹ والے مشروبات استعمال کریں۔ خوراک ہلکی ہونی چاہیے اور پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔

ڈاکٹر جیوتی کے مطابق گرمی میں فوری سکون کے لیے کول پیک، گیلا تولیہ، پانی کا اسپرے یا ہاتھ پاؤں کو ٹھنڈے پانی میں ڈبونا مفید ہے۔ "دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے کے دوران زیادہ جسمانی مشقت سے پرہیز کریں۔ دھوپ میں نکلتے وقت دھوپ کا چشمہ، چوڑی ٹوپی اور سن بلاک کا استعمال کریں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "بوڑھوں، بچوں، کھلی فضا میں کام کرنے والوں اور امراض کے شکار افراد کو شدید گرمی کے دوران خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button