
خلیج اردو
ابوظہبی: اماراتی فتویٰ کونسل نے وضاحت کی ہے کہ اگر عید الاضحی اور جمعہ کی نماز ایک ہی دن واقع ہوں تو دونوں نمازیں اپنے وقت پر اور ان کے سنت طریقے کے مطابق ادا کرنا واجب ہیں۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب متحدہ عرب امارات میں بہت سے مسلمانوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عید الاضحی جمعہ کے روز آئے تو جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہو گا۔
کونسل کے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق یہ مسئلہ طویل عرصے سے علمی و فقہی اختلاف کا باعث رہا ہے، تاہم کونسل نے جمہور علما کی رائے کی تائید کی ہے۔ ان علما میں امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل سے منقول ایک روایت شامل ہے، جس کے مطابق دونوں نمازیں الگ الگ اپنے وقت پر ادا کی جانی چاہییں۔
فتویٰ کونسل نے زور دیا کہ جمعہ کی نماز اسلام کے اہم ترین فرائض میں سے ایک ہے، اور اسے بغیر شرعی عذر کے ترک کرنا جائز نہیں۔ یہ ان افراد کے لیے انفرادی فریضہ ہے جن پر نمازِ جمعہ فرض ہے، جب کہ عید کی نماز بعض فقہی مکاتب فکر کے مطابق مؤکد سنت اور بعض کے مطابق اجتماعی فرض ہے۔
تاہم کونسل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض معتبر فقہی آرا کے مطابق جو شخص عید کی نماز ادا کرے، اس کے لیے جمعہ کی نماز چھوڑنے اور اس کی جگہ گھر میں ظہر کی نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
اس کے باوجود، کونسل نے واضح کیا کہ جمعہ کی نماز میں شرکت کرنا افضل اور زیادہ اجر کا باعث ہے، اور جو افراد یہ رخصت اختیار کریں انہیں ملامت نہیں کی جا سکتی۔
امام کا کیا حکم ہے؟
کونسل نے صراحت کی کہ فقہی اختلاف کے باوجود امام پر جمعہ کی نماز معاف نہیں ہوتی۔ وہ ان لوگوں کے لیے یہ نماز پڑھائے گا جو مسجد میں حاضر ہوں، چاہے ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔
یہ موقف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت پر مبنی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"آج تمہارے دن میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں، پس جس کا جی چاہے، عید کی نماز اس کے لیے جمعہ کی نماز کی جگہ کافی ہو گی، اور ہم (پھر بھی) جمع ہوں گے۔







