متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی اسرائیلی حملے کی مذمت، جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے ایران پر اسرائیلی فوجی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے علاقائی سلامتی و استحکام پر ممکنہ اثرات سے خبردار کیا ہے۔

وزارت خارجہ  کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشیدگی کے اس نازک مرحلے پر زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل اور دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ تنازع مزید نہ پھیلے اور خطرات کم کیے جا سکیں۔

وزارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مسلح تصادم کے بجائے سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے پر زور دینا ہی موجودہ بحران کا واحد مؤثر حل ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب نے بھی ایران پر اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ "برادر اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیل کی کھلی جارحیت قابل مذمت ہے، جو اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہے۔”

جمعہ کی صبح اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، جس کا مقصد تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا بتایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور مقامی افراد کے مطابق متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں مرکزی یورینیم افزودگی پلانٹ بھی شامل ہے۔

اسرائیل نے اس کارروائی کو "رائزنگ لائن” کا نام دیا ہے اور بتایا ہے کہ ایرانی کمانڈرز اور میزائل فیکٹریاں بھی ہدف پر تھیں، جبکہ ممکنہ جوابی حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ "ہم اسرائیل کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔”

دوسری جانب ایرانی حکام نے اسرائیلی حملے کا سخت جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق، "اسرائیلی حملے کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا، اور جوابی کارروائی کی تفصیلات اعلیٰ سطح پر زیر غور ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button