عالمی خبریں

واحد زندہ بچ جانے والے مسافر کی معجزاتی کہانی: "مجھے خود بھی یقین نہیں ہوتا کہ میں طیارے سے باہر کیسے نکلا”

خلیج اردو
احمد آباد – لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 171 کے حادثے میں 241 افراد کی ہلاکت کے باوجود ایک مسافر کے زندہ بچ جانے کی حیران کن کہانی سامنے آئی ہے۔ وشواسکمار رمیش، جو اس طیارے میں سیٹ نمبر 11 اے پر سوار تھے، واحد فرد ہیں جو اس المناک حادثے سے بچ نکلے۔

حادثہ احمد آباد سے پرواز کے فوراً بعد پیش آیا جب طیارہ ایک عمارت سے ٹکرا گیا جہاں ٹرینی ڈاکٹرز رہائش پذیر تھے۔ ابھی تک حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ زمین پر کتنے افراد جاں بحق ہوئے۔

وشواسکمار کے بھائی نائن رمیش نے بتایا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ وشواسکمار کیسے بچ گئے۔ انھوں نے کہا، "وشواسکمار کو خود بھی اندازہ نہیں کہ وہ کیسے باہر نکلے۔ اُن کا ذہن صرف اپنے بھائی آجے کی تلاش میں تھا جو اسی پرواز پر ان کے ساتھ تھے۔”

حادثے کے بعد ایک ویڈیو میں وشواسکمار کو ایمبولینس کی طرف بڑھتے دیکھا گیا، جب کہ پس منظر میں ملبے سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ ان کے چہرے پر زخم اور جسم پر خون کے نشانات واضح تھے۔ اسپتال میں زیر علاج وشواسکمار کو وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہسپتال میں جا کر ملاقات کی۔

ڈاکٹر ڈھاول گمیتی کے مطابق وشواسکمار کے جسم پر کئی چوٹیں ہیں لیکن وہ خطرے سے باہر ہیں۔ انڈین میڈیا کے مطابق وہ 2003 سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور وہاں کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ میں بیوی اور چار سالہ بیٹا شامل ہیں۔

سرکاری چینل دور درشن کو دیے گئے انٹرویو میں وشواسکمار نے بتایا کہ حادثے کے بعد انھیں لگا تھا کہ وہ مرنے والے ہیں لیکن آنکھ کھلی تو خود کو زندہ پایا۔ "میں نے سیٹ بیلٹ ہٹائی اور دیکھا کہ کہاں سے باہر نکل سکتا ہوں۔ میں جس طرف تھا، وہ حصہ عمارت سے نہیں ٹکرایا تھا۔ وہاں سے میں نکل گیا۔”

وشواسکمار نے مزید کہا، "میری آنکھوں کے سامنے ایئر ہوسٹس، آنٹی انکل مارے گئے۔ جہاز کی روشنی جل گئی اور پھر وہ تیزی سے عمارت سے ٹکرا گیا۔ میں جیسے ہی باہر نکلا، وہاں آگ لگی اور میرا بایاں ہاتھ جل گیا۔ پھر ایمبولینس نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔”

حادثے میں متعدد برطانوی شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ گلوسٹر مسلم سوسائٹی کے مطابق عقیل نانابوا، ان کی اہلیہ حنا ووراجی، اور بیٹی سارہ اس حادثے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ روحانی فلاحی مرکز "ویلنس فاؤنڈری” کے بانی فیونگل اور جیمی گرینلا-میک، اور ویسٹ لندن کے جاوید اور ان کی اہلیہ مریم اپنے بچوں کے ساتھ پرواز میں موجود تھے۔

بادشاہ چارلس اور ان کی اہلیہ، وزیر اعظم سر کیر سٹارمر اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اس افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ برطانیہ کے سکریٹری خارجہ نے امدادی ٹیموں کو متحرک کر دیا ہے اور حکومت کی ہنگامی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔

ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ لواحقین کے لیے استقبالیہ مراکز قائم کر رہی ہے اور برطانوی شہریوں سے رابطہ کے لیے نمبر 0207 008 5000 پر کال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دنیا بھر سے تعزیتوں اور ہمدردی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ وشواسکمار کی زندگی کا بچ جانا اس حادثے کے اندھیرے میں ایک روشن کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button