
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سنگل یوز پلاسٹک بیگز پر پابندی نافذ ہوئے ڈھائی سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم سپر مارکیٹوں کے چیک آؤٹ کاؤنٹرز پر اب بھی پلاسٹک بیگز استعمال ہو رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ زیادہ موٹے ہوتے ہیں، ان کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور ان کی موٹائی 50 مائیکرون سے زیادہ ہوتی ہے۔
یکم جنوری 2026 سے وزارتی فیصلہ نمبر 380 برائے 2022 کے تحت 50 مائیکرون سے کم موٹائی والے سنگل یوز پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد ہے۔ ان کی جگہ زیادہ موٹے پلاسٹک بیگز نے لے لی ہے، جن میں پلاسٹک کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اگر انہیں صرف ایک بار استعمال کر کے پھینک دیا جائے تو ان کا ماحولیاتی اثر پہلے والے بیگز سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
ملک کے بڑے ریٹیلرز نے پابندی کے آغاز پر ہر بیگ کی کم از کم 50 فلس قیمت مقرر کی تھی۔ تاہم لولو ہائپر مارکیٹ میں جولائی 2026 تک عام کیری بیگ 2.50 درہم جبکہ ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کردہ جوکو (Juco) بیگ 7.50 درہم میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جوکو بیگ صرف تین بار استعمال کرنے پر اپنی قیمت پوری کر دیتا ہے۔
ابوظہبی نے 2022 میں ملک کے دیگر حصوں سے پہلے یہ پابندی نافذ کی تھی۔ انوائرمنٹ ایجنسی ابوظہبی کے مطابق پہلے ہی سال کیش کاؤنٹرز پر پلاسٹک بیگز کے استعمال میں 95 فیصد کمی آئی، روزانہ اوسطاً 4 لاکھ 50 ہزار بیگز کی بچت ہوئی اور 17 کروڑ 20 لاکھ سے زائد سنگل یوز بیگز ماحول میں جانے سے روکے گئے۔
تاہم صارفین میں دوبارہ استعمال ہونے والے بیگز اپنانے کی عادت اب بھی مکمل طور پر فروغ نہیں پا سکی۔
کئی خریداروں کا کہنا ہے کہ وہ کپڑے یا ری یوز ایبل بیگ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اکثر انہیں گھر یا گاڑی میں بھول جاتے ہیں یا خریداری توقع سے زیادہ ہونے کی صورت میں پلاسٹک بیگز خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعض صارفین یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ خریدے گئے پلاسٹک بیگز کو بعد میں گھریلو صفائی یا کچرا جمع کرنے کے لیے دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔
یو اے ای یونیورسٹی کی 2024 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق زیادہ تر افراد پلاسٹک بیگز کے ماحولیاتی نقصانات سے آگاہ ہیں، لیکن ان کے رویے میں تبدیلی کی سب سے بڑی رکاوٹ سہولت (Convenience) ہے، نہ کہ قیمت یا معلومات کی کمی۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک یا دو درہم کی اضافی قیمت زیادہ تر صارفین کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتی، خصوصاً جب ادائیگی کارڈ کے ذریعے کی جائے اور بیگ کی قیمت مجموعی بل میں شامل ہو جائے۔ اس کے برعکس دوبارہ استعمال ہونے والا بیگ ساتھ لانے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی اور عادت بنانا ضروری ہے، جو اب بھی بہت سے خریداروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔







