
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں اسکول کھلنے سے قبل طبی ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی اسکول تیاری کے ساتھ ساتھ موسمی انفلوئنزا (فلو) ویکسین کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں، کیونکہ بروقت ویکسینیشن بچوں اور پوری کمیونٹی کو فلو سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ستمبر کے آغاز یا وسط میں فلو ویکسین لگوانا بہترین وقت ہے، کیونکہ جسم کو ویکسین کے بعد مؤثر مدافعت پیدا کرنے میں تقریباً دو ہفتے لگتے ہیں۔
فیملی میڈیسن اور آکیوپیشنل ہیلتھ کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر منصور انور حبیب کے مطابق فلو ویکسین بیماری کو مکمل طور پر نہیں روکتی، تاہم اگر وائرس سے انفیکشن ہو بھی جائے تو اس کی شدت میں نمایاں کمی آتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس کی مخصوص اقسام سے پہلے ہی متعارف کرا دیتی ہے، جس کے باعث انفیکشن کی صورت میں مدافعتی نظام فوری ردعمل دیتا ہے اور بیماری کی علامات نسبتاً ہلکی رہتی ہیں۔
ڈاکٹر منصور کے مطابق علامات کم ہونے سے وائرس کے دوسرے افراد تک منتقل ہونے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں، جس سے اسکولوں اور گھروں میں فلو کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ جس طرح وہ اسکول یونیفارم اور اسٹیشنری کی خریداری کرتے ہیں، اسی طرح فلو ویکسین کو بھی اپنی تیاری کا لازمی حصہ بنائیں۔
ماہرین کے مطابق فلو ویکسین چھ ماہ یا اس سے زائد عمر کے تمام افراد کے لیے موزوں ہے، جبکہ وزارتِ صحت و تحفظ (MoHAP) ہر سال خصوصاً کم عمر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو ویکسین لگوانے کی سفارش کرتی ہے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق دو سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو فلو ویکسین لگانے سے انفیکشن کی شرح میں 14 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے، کیونکہ بچے اسکولوں اور نرسریوں میں ایک دوسرے سے قریبی رابطے کی وجہ سے وائرس زیادہ پھیلاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی بروقت ویکسینیشن نہ صرف خاندان کو تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ اسکول سے غیر حاضری اور اسپتال جانے کی ضرورت بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔







