
خلیج اردو
بھارت میں سوشل میڈیا پر ابھرنے والی طنزیہ مہم "ای20 جنتا پارٹی (E20 Janta Party)” نے 4 اگست کو پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ حکومت صارفین کو 100 فیصد پٹرول خریدنے کا اختیار دے اور مرکزی وزیر برائے سڑک و ٹرانسپورٹ کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
حکومتِ بھارت نے ای20 فیول (20 فیصد ایتھانول اور 80 فیصد پٹرول کا مرکب) متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد خام تیل کی درآمدات میں کمی، کسانوں کی معاونت اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لانا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ای20 فیول پرانی گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس سے فیول ایفیشنسی کم ہوتی ہے اور ایتھانول کی پیداوار کے لیے پانی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ کئی پٹرول پمپس پر ای20 فیول متعارف کرانے سے پہلے صارفین کو مناسب آگاہی نہیں دی گئی، جس سے پرانی گاڑیوں کے مالکان مشکلات کا شکار ہوئے۔
ای20 جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ شہری اپنی گاڑیوں پر زیادہ جی ایس ٹی اور رجسٹریشن فیس ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی گاڑیوں کے لیے موزوں فیول منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
بھارت کے بعض پٹرول پمپس پر 100 فیصد پٹرول دستیاب ہے، تاہم اس کی قیمت ای20 فیول سے زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ہر صارف کی پہنچ میں نہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری دعوؤں کے مطابق 4 اگست کو ہونے والے احتجاج میں دہلی ٹیکسی اینڈ ٹورسٹ ٹرانسپورٹرز اینڈ ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن کے بعض ارکان کی شرکت بھی متوقع ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ نئی مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں نیٹ (NEET) امتحان کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے خلاف طلبہ کے احتجاج نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی۔ ان مظاہروں کے بعد بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، جسے طلبہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔







