
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے شہری عبید عتیق الکعبی کے لیے کافی صرف ایک مشروب نہیں بلکہ ثقافت، مہمان نوازی اور روایت کی علامت تھی۔ تقریباً ایک دہائی تک وہ اپنے کافی بزنس کا خواب دیکھتے رہے، مگر ایک سخت تنقیدی تبصرے نے انہیں یہ خواب ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔
عبید نے 2017 میں اماراتی کافی بینز روسٹ کر کے فروخت کرنا شروع کی۔ ابتدا میں صارفین کا ردعمل مثبت تھا، لیکن ایک گاہک نے کہا کہ ان کی کافی "پینے کے قابل بھی نہیں”۔ اس ایک رائے سے متاثر ہو کر انہوں نے بینز، سپلائر اور روسٹنگ کا طریقہ بدل دیا، جس کے بعد فروخت میں نمایاں کمی آ گئی اور بالآخر انہوں نے کاروبار بند کر دیا۔
کچھ برس بعد شادی کے بعد عبید نے اپنی شادی گرانٹ کا ایک حصہ پیشہ ورانہ کافی مشینیں خریدنے پر خرچ کیا اور گھر پر مسلسل مشق کرتے رہے۔ ان کی اہلیہ نے بھی انہیں گھر سے کاروبار شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔
2024 میں علاج کے سلسلے میں امریکہ کے سفر کے دوران میاں بیوی نے اپنے خواب کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ اسپتال کے دوروں کے درمیان انہوں نے "سلو ڈرِپ” (Slow Drip) کا تصور، برانڈنگ اور لائسنسنگ مکمل کی۔
یو اے ای واپسی پر عبید نے اپنے گھر سے منسلک آؤٹ ڈور ایریا میں سلو ڈرِپ کا آغاز کیا۔ افتتاح کے صرف ایک ہفتے بعد انہیں وزارتِ کمیونٹی ایمپاورمنٹ سے منسلک ایک اقدام کے ذریعے اپنا منصوبہ پیش کرنے کا موقع ملا، جس کے نتیجے میں گلوبل ولیج میں اسٹال مل گیا۔
گلوبل ولیج میں ہزاروں افراد نے نہ صرف ان کی کافی بلکہ اماراتی مہمان نوازی اور روایات کو بھی سراہا۔ بعد ازاں عبید نے ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف کلچر اینڈ ٹورازم کے زیر اہتمام اماراتی کافی چیمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی، جس کے بعد انہیں مختلف سرکاری اداروں اور بیرون ملک، حتیٰ کہ چین میں بھی اماراتی کافی کلچر پر ورکشاپس اور نمائندگی کے مواقع ملے۔
عبید کا کہنا ہے کہ وہ صرف کافی نہیں سکھاتے بلکہ اماراتی آداب، مہمان نوازی، سخاوت اور روایات بھی نئی نسل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گھر سے کاروبار شروع کرنے کی وجہ سے بہت سے نوجوان ان سے سپلائرز، آلات، لائسنسنگ اور کاروبار کے آغاز سے متعلق رہنمائی لینے لگے، اور وہ خوش دلی سے اپنی معلومات دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
بعد ازاں معروف اماراتی کانٹینٹ کریئیٹر احمد سیف القبیسی کی ایک ویڈیو نے سلو ڈرِپ کو غیرمعمولی شہرت دلائی۔ اس کے بعد گاہکوں کا رش اس قدر بڑھ گیا کہ بعض اوقات 40 منٹ تک انتظار کرنا پڑتا تھا، جس پر عبید کو فوری طور پر تجربہ کار عملہ بھرتی کرنا پڑا۔
اب سلو ڈرِپ ابوظہبی کے بنی یاس علاقے میں اپنا پہلا مستقل کیفے کھولنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ عبید کی خواہش ہے کہ مستقبل میں متحدہ عرب امارات بھر کے شاپنگ مالز میں سلو ڈرِپ کافی پوائنٹس اور خصوصی بیلجیئن وافل کیوسک قائم کیے جائیں۔







