
خلیج اردو
تہران، تل ابیب:ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں اور کار بم دھماکوں کے باعث شدید تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عرب اور ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران کے وسطی علاقے میں واقع ایرانی پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب دو بڑے دھماکے ہوئے جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 50 طیاروں کی مدد سے ایران کے 170 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں کئی حساس تنصیبات بھی شامل ہیں۔ یہ حملے بیک وقت تہران کے مختلف علاقوں پر کیے گئے جن کے نتیجے میں پانچ کار بم دھماکوں کی بھی اطلاع ملی ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق، تخریب کاروں نے تہران کی بڑی پائپ لائن کو بھی تباہ کر دیا، جس سے شہر کی سڑکیں پانی سے بھر گئیں۔ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے حملوں کے دوران حرکت میں آ کر جوابی کارروائی کی، تاہم نقصانات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ رہا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، فضائی حملوں اور کار بم دھماکوں کے نتیجے میں ایران کے 14 جوہری سائنسدان شہید ہو چکے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔







