
خلیج اردو
یروشلم – مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر اس وقت دیکھی گئی جب ایران نے اتوار کی صبح سویرے اسرائیل پر 100 سے زائد بیلسٹک میزائل داغ دیے، جو کہ اب تک کا سب سے بڑا ایرانی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حملے کے نتیجے میں کم از کم 4 اسرائیلی ہلاک اور 67 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ایرانی میزائل تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس اور حیفہ سمیت اسرائیل کے اہم شہروں پر داغے گئے۔ حیفہ میں واقع پاور پلانٹ پر براہ راست میزائل حملہ ہوا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور شمالی اسرائیل کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
وسطی اسرائیل میں بھی بجلی بند ہونے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ شمالی اسرائیل میں شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کی آوازوں سے پورے شہروں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ اسرائیلی حکام نے فوری طور پر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں ایک بار پھر ناکام رہا، اور متعدد میزائل اپنے اہداف پر جا گرے۔
ایرانی حکام کی جانب سے تاحال حملے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین کی جانب سے اس حملے کو "وعدہ صادق” کے تسلسل کا نام دیا جا رہا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے جنگی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔






