متحدہ عرب امارات

ڈو کا مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی دو (du) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے دوسرے نصف حصے میں مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ سروسز، فائبر نیٹ ورکس اور ڈیٹا سینٹرز میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ کاروباری شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

خلیج ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فہد الحساوی نے کہا کہ انٹرپرائز آئی سی ٹی (ICT) خدمات آئندہ مہینوں میں کمپنی کے لیے ترقی کے سب سے بڑے مواقع میں سے ایک ہیں، جس کی بڑی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے معیشت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا، "آئی سی ٹی کا شعبہ مارکیٹ میں مسلسل مضبوط ترقی دکھا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر AI اپنانے اور AI ٹرانسفارمیشن کے اقدامات کی بدولت کلاؤڈ سروسز، ایجنٹک AI اور GPU استعمال کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، اور ہمیں توقع ہے کہ یہ رفتار سال بھر برقرار رہے گی۔”

فہد الحساوی نے واضح کیا کہ خطے میں جغرافیائی کشیدگی اور مارکیٹ میں سست روی کے باوجود کمپنی اپنی طویل مدتی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں کوئی کمی نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا، "ہم موبائل نیٹ ورک اور فائبر نیٹ ورک میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔ یہ ایسا شعبہ ہے جہاں ہم سرمایہ کاری کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اسی طرح ڈیٹا سینٹرز کی توسیع بھی جاری رہے گی کیونکہ یہ سرمایہ کاری مستقبل میں ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔”

علاقائی کشیدگی کے باوجود مضبوط کارکردگی

دو کے سی ای او کے مطابق کمپنی اپنی سرمایہ کاری کا منصوبہ تین سے پانچ سال کے افق کو مدنظر رکھ کر بناتی ہے، اس لیے مستقبل کی ترقی سے متعلق منصوبوں میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال مارچ سے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں کچھ سست روی ضرور آئی، تاہم کمپنی نے اس کے باوجود مثبت نتائج حاصل کیے۔

ان کے مطابق انٹرپرائز کنیکٹیویٹی، خاص طور پر براڈبینڈ اور فائبر سروسز، توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہیں، جبکہ مؤثر لاگت کنٹرول اور منافع کے بہتر مارجن نے کمپنی کی مالی کارکردگی کو سہارا دیا۔

سروسز میں کوئی تعطل نہیں آیا

فہد الحساوی نے کہا کہ علاقائی حالات کے دوران صارفین کو بلا تعطل خدمات فراہم کرنے کے لیے کمپنی نے نیٹ ورک اور کسٹمر سروسز کے حوالے سے خصوصی ہنگامی منصوبے فعال کیے۔

انہوں نے کہا، "ہماری سب سے بڑی ترجیح یہ تھی کہ صارفین کو خدمات میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔ ہماری ٹیم نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے نیٹ ورک اور آپریشنز کو مستحکم رکھا اور صارفین کو مسلسل بہترین سروس فراہم کی۔”

مالی نتائج

30 جون 2026 کو ختم ہونے والی پہلی ششماہی کے دوران:

  • آمدنی 5.8 فیصد اضافے کے ساتھ 8.2 ارب درہم تک پہنچ گئی۔
  • EBITDA میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.03 ارب درہم ہو گیا۔
  • EBITDA مارجن 47.1 فیصد سے بڑھ کر 49.2 فیصد ہو گیا۔
  • خالص منافع 12.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1.63 ارب درہم تک پہنچ گیا۔

دوسری سہ ماہی میں بھی کمپنی کی آمدنی 4.6 فیصد بڑھ کر 4.08 ارب درہم رہی، جبکہ خالص منافع 9.8 فیصد اضافے کے ساتھ 798 ملین درہم تک پہنچ گیا۔

کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکرز نے فی شیئر 0.26 درہم عبوری نقد منافع کی بھی منظوری دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

فہد الحساوی نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور کنیکٹیویٹی سلوشنز کی طلب مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دو اپنے موجودہ صارفین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی اور نئی خدمات متعارف کرا کے کاروباری ترقی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا، "ہمارا کاروباری ماڈل اپنی مضبوطی ثابت کر چکا ہے۔ ہم نے دکھایا ہے کہ چیلنجز کے باوجود خود کو حالات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور صارفین و شیئر ہولڈرز کے لیے مسلسل قدر پیدا کر سکتے ہیں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button