Uncategorized

یو اے ای: تنخواہوں میں تاخیر پر ملازمین کی بے چینی اور استعفوں میں اضافہ، نئی رپورٹ سامنے آ گئی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات سمیت مشرق وسطیٰ کے کاروباری اداروں کو اس وقت بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا سامنا ہے، اور اس دباؤ کے نتیجے میں تنخواہوں میں اضافے کی تاخیر نے کئی کمپنیوں کو ملازمین کی برطرفی اور بے چینی جیسے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

رابرٹ والٹرز مڈل ایسٹ کی تنخواہ سروے 2025 کے مطابق، 68 فیصد اداروں نے تسلیم کیا کہ تنخواہوں میں تاخیر کے باعث اُن کے ہاں ملازمین کی علیحدگی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ 32 فیصد بزنس لیڈرز نے ملازمین میں "ڈس انگیجمنٹ” یعنی تنظیم سے جذباتی لاتعلقی میں بھی اضافہ محسوس کیا ہے، جو کہ ادارہ جاتی کلچر اور کارکردگی پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

رابرٹ والٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر، جیسن گرنڈی کے مطابق، "بجٹ کی رکاوٹیں اور کاروباری کارکردگی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ادارے تنخواہوں میں اضافہ مؤخر کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم، اس کا اثر اب واضح طور پر سامنے آ رہا ہے — چاہے وہ ملازمین کی رخصتی ہو یا حوصلے میں کمی۔”

گرنڈی نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ملازمتوں کی تلاش کا عمل تیز اور آسان ہو چکا ہے، جس سے ملازمین کو نئے مواقعوں کی تلاش میں زیادہ سہولت مل گئی ہے۔

تنخواہ ہی سب کچھ نہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہ اگرچہ ایک اہم پہلو ہے، مگر ملازمین کی وفاداری قائم رکھنے کے لیے دیگر عوامل جیسے لچکدار ورکنگ، ترقی کے مواقع، اندرونی ٹرانسفرز، اور حقیقی طور پر تسلیم کیے جانے کا احساس بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

مارک ایلس دبئی کے جنرل منیجر، اویس اسماعیل نے کہا، "اگرچہ لوگ تنخواہ کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے، مگر وہ خود کو ‘قدر’ دیے جانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ایسی کمپنیوں نے کامیابی حاصل کی ہے جنہوں نے غیر مالی مراعات کو مستقل ثقافت کا حصہ بنایا۔”

شفافیت اور مواصلات کی اہمیت

ماہرین نے زور دیا کہ اگر اداروں کو تنخواہوں میں اضافہ فوری طور پر ممکن نہیں، تو ملازمین کو بروقت اور شفاف انداز میں صورتحال سے آگاہ کرنا بے حد ضروری ہے۔

اویس اسماعیل کا کہنا تھا کہ "جب تنخواہوں میں تاخیر ہو، تو اس کی وضاحت، مستقبل کا روڈ میپ، اور ملازمین کی کارکردگی کا اعتراف ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ خاموشی یا مبہم ردعمل صرف بے چینی اور کارکردگی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔”

جینی ریکروٹمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نکّی ولسن کے مطابق، "ملازمین صرف تنخواہوں کی تاخیر سے لاتعلق نہیں ہوتے، بلکہ اس وقت جب انہیں محسوس ہو کہ ان کی محنت کا اعتراف نہیں ہو رہا۔ کارکردگی سے منسلک اہداف کے ساتھ تنخواہ پر کھلی بات چیت ملازمین کا اعتماد قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button