
خلیج اردو
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث پھنسنے والے 18 فلپائنی کارکنوں کو کامیابی سے وطن واپس بھیج دیا گیا۔
فلپائن کی حکومت کی جانب سے ان محنت کشوں کو 15 جون کو وطن واپس بھیجا گیا۔ یہ افراد 13 جون کو اسرائیل اور اردن میں ملازمت کے لیے روانہ ہو رہے تھے، تاہم فضائی راستوں کی عارضی بندش کے باعث دبئی میں پھنس گئے تھے۔
فلپائنی لیبر اتاشی جان ریو آسویڈا باؤٹسٹا نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ ان 18 میں سے 15 کارکن اسرائیل میں ملازمت پر واپس جا رہے تھے جبکہ 3 نئے ملازمین اردن کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔
فلپائن کے محکمہ برائے مہاجر مزدور (DMW) کے مطابق وطن واپسی پر ان کارکنوں کو عارضی طور پر ایک ہوٹل میں رکھا گیا۔ DMW کے سیکریٹری ہانس لیو کاڈڈاک نے کہا کہ ہر کارکن کو 50,000 فلپائنی پیسو (تقریباً 3,335 درہم) مالی امداد دی گئی، جسے ایک عبوری حفاظتی اقدام قرار دیا گیا تاکہ آمدنی کے اس عارضی نقصان کا ازالہ ہو سکے۔ ان افراد کو اپنے آبائی علاقوں تک سفر کے لیے الاؤنس بھی دیا گیا۔
فلپائن کے محکمہ خارجہ کے انڈر سیکریٹری ایڈورڈو ڈی ویگا کے مطابق اسرائیل میں سیکیورٹی الرٹ لیول 2 جاری ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں سلامتی کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔
سیکریٹری کاڈڈاک نے واضح کیا کہ فلپائن کی حکومت الرٹ لیولز کی بنیاد پر لازمی انخلا کے فیصلے کرتی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو انخلا کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل میں تقریباً 30,000 فلپائنی شہری ملازمت کر رہے ہیں، جن کا تعلق کیئر گیونگ، زراعت، مہمان نوازی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں سے ہے۔ ایران میں ایک ہزار سے زائد فلپائنی موجود ہیں، جن کے لیے ممکنہ انخلا کا متبادل راستہ ترکمانستان سے تیار کیا جا چکا ہے۔
اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد عراق، اردن، لبنان اور اسرائیل نے اپنے فضائی راستے تجارتی پروازوں کے لیے بند کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر یو اے ای کی ایئر لائنز نے ان ممالک کی جانب جانے والے مسافروں کو سفر کی اجازت دینے سے روک دیا ہے۔
فلپائنی حکام نے بیرون ملک مقیم شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے اطلاعات حاصل کریں اور مقامی ہدایات پر عمل کریں۔







