Uncategorized

دبئی مرینا آتشزدگی: متاثرہ رہائشی جل کر تباہ شدہ گھروں کو لوٹنے لگے، جذباتی مناظر سامنے آ گئے

خلیج اردو
دبئی: دبئی مرینا کے 67 منزلہ مرینا پناکل ٹاور (جسے ٹائیگر ٹاور بھی کہا جاتا ہے) میں جمعہ کی شب لگنے والی خوفناک آگ کے بعد پہلی بار کئی رہائشیوں کو عمارت میں واپس جا کر ضروری اشیاء لینے کی اجازت دی گئی، جہاں کا منظر دیکھ کر متعدد افراد آبدیدہ ہو گئے۔

مصری بزنس کنسلٹنٹ سلمیٰ شریف الہوسینی، جو 40ویں منزل پر مقیم تھیں، نے ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ تباہ حال فلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے بکھری ہوئی راکھ پر قدم رکھتی اور زور زور سے روتی نظر آئیں۔ انہیں ایک دبئی پولیس افسر کی رہنمائی میں ان کے اپارٹمنٹ تک لایا گیا۔

انہوں نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا: "میرا ماسٹر بیڈروم مکمل طور پر جل گیا ہے۔ سب کچھ ختم ہو چکا ہے – میرے زیورات، لیپ ٹاپ، کپڑے، پیدائش اور تعلیم کے سرٹیفکیٹ، اور تمام رقم، سب کچھ یہیں تھا۔” سلمیٰ ڈیڑھ سال قبل دبئی منتقل ہوئی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ اس شہر میں وہ تنہا ہیں۔

پولیس اور سول ڈیفنس کی جانب سے عمارت میں داخلے کے لیے سخت نظام قائم کیا گیا ہے۔ ہر رہائشی کو اماراتی شناختی کارڈ، ایجارِی معاہدہ جمع کروانا ہوتا ہے، جس کے بعد محدود وقت کے لیے انہیں چھوٹے گروپوں میں عمارت میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ پاسپورٹ، دوا، لیپ ٹاپ اور گاڑی کی چابیاں جیسی اشیاء اکٹھی کر سکیں۔

رہائشیوں نے حکام کے منظم نظام کی تعریف کی تاہم کچھ افراد کی جانب سے ضوابط کی خلاف ورزی اور بھاری بیگز لے جانے سے دیگر متاثرین کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک بھارتی رہائشی نے بتایا کہ ان کا تیسری منزل پر واقع اپارٹمنٹ محفوظ رہا، صرف معمولی دھواں آیا، "میں خوش قسمت ہوں۔”

ترک نژاد یاسمین فیونتس، جو اپنے شوہر، بیٹی اور تین پالتو جانوروں کے ساتھ 47ویں منزل پر رہتی ہیں، نے بتایا کہ وہ پیر کے روز تین مرتبہ ٹاور آئیں لیکن رش اور گرمی کی وجہ سے اندر نہ جا سکیں۔

"آگ کا علم مجھے ایک پڑوسی کی کال سے ہوا، کوئی الارم نہیں بجا۔ سیڑھیوں تک پہنچتے ہی دھواں بھر چکا تھا، ہم صرف جان بچا کر نکل سکے،” یاسمین نے بتایا۔

واٹس ایپ سپورٹ گروپس میں متاثرین مسلسل معلومات شیئر کر رہے ہیں:
– "پاسپورٹ اور چابیاں مل گئیں، کچن محفوظ لیکن لاؤنج دھوئیں سے متاثر ہوا۔”
– "43ویں منزل: کچن اور ہال محفوظ، ماسٹر بیڈروم مکمل تباہ۔”
– "34ویں منزل: کمرہ جزوی متاثر، ہال مکمل جلا۔”
– "19ویں منزل: لاؤنج مکمل تباہ، ہال جزوی متاثر۔”

مشترکہ رہائش رکھنے والوں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہے کیونکہ انہیں صرف اپنے کمروں تک جانے کی اجازت ہے۔ 40ویں منزل سے اوپر بجلی موجود نہیں، تاہم ضروری سامان لینے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود رہائشیوں نے کمیونٹی سپورٹ پر اظہارِ تشکر کیا۔ "ہم نے بہت کچھ کھویا، لیکن لوگوں کی مدد دیکھ کر حوصلہ ملا۔”

ایک ہزار سے زائد ارکان پر مشتمل واٹس ایپ سپورٹ گروپ ‘Support Group to Help’ فعال ہے، جہاں سے متاثرین کو کپڑے، کھانا اور عارضی رہائش کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید برآں، ذہنی دباؤ اور صدمے سے نمٹنے کے لیے مفت ذہنی صحت مشورے، آن لائن ہنسی اور روایتی یوگا سیشنز بھی ہر روز صبح 6:45 سے 7:45 تک کرائے جا رہے ہیں، جو جمعہ تک جاری رہیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button