
خلیج اردو
فجیرہ: متحدہ عرب امارات کی فجیرہ اپیل کورٹ نے ایک شخص کو کالا جادو کرنے، بیوی اور اس کے اہل خانہ کی نجی تصاویر غیر متعلقہ افراد کو بھیجنے اور ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر چھ ماہ قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کے خلاف دی گئی ابتدائی سزا شواہد اور قانونی بنیادوں پر مبنی تھی۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب بیوی نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی کہ اس کے شوہر نے اس پر، بچوں پر اور اس کے رشتہ داروں پر جادو کیا ہے۔ اس الزام کی بنیاد ایک مبینہ روحانی عامل کی جانب سے بھیجی گئی تصاویر اور واٹس ایپ چیٹس تھیں، جن میں شوہر کا ملوث ہونا ثابت ہوتا تھا۔
امارات الیوم کی رپورٹ کے مطابق، شوہر نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایسی خواتین کو تلاش کیا جو خود کو "محبوب واپس لانے والی ماہر” ظاہر کرتی تھیں۔ اس نے ایک عرب ملک میں مقیم خاتون سے رابطہ کیا اور 20 ہزار درہم میں جادو کرنے کا معاہدہ کیا۔
اس خاتون کو اس نے اپنی بیوی کی تصاویر، ایک ویڈیو، اور دونوں کے فون نمبرز بھیجے۔ بعد میں خاتون نے مزید 25 ہزار درہم کا تقاضا کیا، جو اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جواباً خاتون نے دھمکی دی کہ وہ تصاویر اور چیٹس اس کی بیوی کو بھیج دے گی۔
اس دھوکہ دہی کے بعد، شوہر نے ایک اور عامل کو 10 ہزار درہم دیے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ آخر میں اس نے تیسری خاتون سے رابطہ کیا جو مفت خدمات کی پیشکش کر رہی تھی، لیکن اس سے پہلے کہ معاملہ آگے بڑھتا، پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
بیوی جو پہلے ہی بدسلوکی کی شکایت پر علیحدگی اختیار کر چکی تھی، کو ایک غیر ملکی خاتون نے رابطہ کر کے 35 ہزار درہم کے عوض شوہر کے جادو کے شواہد پیش کیے۔ بیوی کے انکار پر اس خاتون نے تصاویر، ویڈیوز، اور جادو کے منتر بھیجے، جنہیں بیوی نے پولیس کو بطور ثبوت پیش کیا۔
پبلک پراسیکیوشن نے شوہر پر چار الزامات عائد کیے:
-
نامعلوم افراد کے ساتھ فراڈ اور جادو میں ملوث ہونا
-
دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنا
-
واٹس ایپ کے ذریعے ذاتی تصاویر بھیج کر پرائیویسی کی خلاف ورزی
-
نجی مواد کو غیر قانونی طور پر رکھنا اور پھیلانا
عدالت نے ان جرائم کو سائبر کرائم اور فراڈ قوانین کے تحت "مِس ڈِیمینر” (کم سنگین جرم) قرار دیا۔
ابتدائی عدالت نے چھ ماہ قید اور تمام مواد کی ضبطی و تباہی کا حکم دیا۔ ملزم نے فیصلے کے خلاف اپیل کی اور تمام الزامات کی تردید کی، تاہم اپیلٹ کورٹ نے اس کی اپیل مسترد کر دی اور ابتدائی فیصلے کو برقرار رکھا۔





