
خلیج اردو
راس الخیمہ – محمد انور کی کہانی ایک ذاتی وابستگی سے شروع ہو کر ایک قومی مشن میں بدل گئی۔ محض 11 برس کی عمر میں آوارہ کتوں کو گھر کا بچا کھچا کھانا کھلانے والے بچے نے بعد میں متحدہ عرب امارات کا پہلا ایسا منصوبہ شروع کیا جو مکمل طور پر پولیس کتوں کی مقامی تربیت پر مبنی ہے۔
انور کہتے ہیں کہ ان کی کتوں سے محبت اتنی گہری ہو گئی کہ اسکول کی پڑھائی متاثر ہونے لگی۔ والد نے شرط رکھی کہ اگر پڑھائی بہتر ہوئی تو کتا لے کر دیں گے۔ انور نے محنت کی اور پہلا جرمن شیفرڈ حاصل کیا، مگر ان کی زندگی کا اصل موڑ اُس کتے "سیزر” کے ساتھ آیا جس نے ان کی جان بچائی۔
ایک دن فٹبال میچ کے بعد انور پر حملہ ہوا، سب لوگ بھاگ گئے مگر سیزر واپس آیا، انور کے چہرے سے خون صاف کیا اور دکھ کا اظہار کیا۔ انور نے وہ لمحہ یاد کرتے ہوئے کہا: "مجھے اس دن احساس ہوا کہ دنیا میں کتے سے زیادہ وفادار کوئی نہیں۔”
اسی جذبے کے تحت انور نے خود یوٹیوب سے سیکھنا شروع کیا، پھر نیدرلینڈز میں کورسز کیے جہاں انہیں کتوں کے برتاؤ اور مثبت و منفی تربیت کے اصول سیکھنے کو ملے۔ 2015 میں انہوں نے تربیتی مرکز کا تصور دیا اور 2017 میں باقاعدہ منصوبہ شروع کیا۔
آج ان کا مرکز مختلف شعبوں کے لیے کتے تیار کرتا ہے جن میں تلاش و بچاؤ، منشیات کی شناخت، مجرمانہ تحقیقات، اور اہم تنصیبات کا تحفظ شامل ہے۔ ایک وقت میں 46 تربیت یافتہ کتے مرکز میں موجود ہوتے ہیں۔ انور کے مطابق ان کے تربیت یافتہ کتے اب امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ اور عرب دنیا کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔
اس کامیابی کی راہ میں کئی مشکلات آئیں۔ شارجہ سے ام القوین اور پھر 2022 میں راس الخیمہ منتقل ہونا مالی طور پر تھکا دینے والا تجربہ تھا۔ "میں نے اپنی ہر چیز داؤ پر لگا دی،” انور نے کہا۔ ان کے جذباتی سپورٹ ڈاگ "بو” نے ایسے وقت میں ان کا ساتھ دیا، انہیں ہنسانے اور دباؤ کم کرنے میں مدد کی۔
انور نے دنیا بھر میں 23 سے زائد بین الاقوامی ٹائٹل جیتے۔ 2022 میں نیدرلینڈز میں منعقدہ "کے این پی وی” پولیس ڈاگ چیمپئن شپ جیتنا ان کے لیے سب سے اہم کامیابی تھی۔
ان کا مرکز اب سالانہ 25 سے 30 اعلیٰ معیار کے کتے تیار کرتا ہے، جسے وہ 70 تک بڑھانا چاہتے ہیں۔ انور کہتے ہیں: "دنیا جب ہماری کوالٹی دیکھتی ہے، تو مانگ بڑھتی ہے، مگر کوالٹی جلد بازی سے نہیں آتی۔”
انہوں نے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا: "یہ کام اکیلا ممکن نہیں تھا۔ میری ٹیم کی محنت نے ہی ہمیں اس مقام تک پہنچایا۔”
آنے والے سالوں میں انور کا خواب ہے کہ ان کا مرکز نہ صرف مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا تربیتی ادارہ بنے، بلکہ دنیا کا نمبر ون مرکز بھی۔





