متحدہ عرب امارات

دبئی میں ٹرانزٹ کے دوران بھارتی ڈاکٹر نے فضائی حادثے سے بیٹے کے معجزانہ بچاؤ کی داستان سنائی

خلیج اردو
دبئی – کارڈیک سرجن ڈاکٹر اپوروا پٹیل اور ان کی اہلیہ کیشا جب جمعرات کی شام دبئی سے احمد آباد جانے والی پرواز میں سوار ہوئے، تو ان کے ہمراہ صرف سامان ہی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا بوجھ بھی تھا جو شاید زندگی بھر نہ اُترے — اس لمحے کی یاد جو ایک سانحہ میں بدل سکتا تھا۔

12 جون کو ایئر انڈیا کی ایک بوئنگ 787 ڈریملائنر پرواز، جو احمد آباد سے لندن گیٹوک جا رہی تھی، ٹیک آف کے چند لمحوں بعد ہی قابو کھو بیٹھی اور بی جے میڈیکل کالج کے اتلیام ہاسٹل سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں 241 مسافر جاں بحق ہوئے، جبکہ ہاسٹل میں موجود کم از کم 39 طلبہ بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان میں زیادہ تر میڈیکل کے طلبہ تھے، جو اس وقت ہاسٹل کی میس میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔

ڈاکٹر پٹیل، جو حادثے کے وقت کینیڈا میں تھے، اسی میڈیکل کالج کے سابق طالبعلم ہیں، جبکہ ان کا 19 سالہ بیٹا نسارگ اسی ادارے میں زیرِ تعلیم ہے — اور روزانہ اسی میس میں کھانا کھاتا ہے جہاں حادثہ ہوا۔

"وہ دن میرے بیٹے کی زندگی کا آخری دن ہو سکتا تھا”
دبئی کے بزنس بے علاقے میں مختصر قیام کے دوران انہوں نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا:

"وہ میس بہترین کھانا دیتا ہے، طلبہ وہیں جانا پسند کرتے ہیں۔ میرا بیٹا بھی تقریباً روزانہ وہیں کھاتا ہے۔ وہ صرف اس لیے بچ گیا کیونکہ اُس دن اس کا امتحان تھا۔”

"آواز سن کر جان میں جان آئی”
ڈاکٹر پٹیل نے بتایا کہ جب انہوں نے کینیڈا سے اپنے بیٹے کو فون کیا تو وہ لمحہ زندگی کا سب سے مشکل لمحہ تھا۔

"دوستوں اور خیرخواہوں کی کالیں آنا شروع ہو گئیں۔ میں نے فوراً بیٹے کو فون کیا۔ اس کی آواز سننا سب سے بڑا سکون تھا۔”

لیکن نسارگ کے لیے یہ بچ جانا کسی جذباتی صدمے سے کم نہیں۔

"وہ ابھی تک صدمے میں ہے۔ اس نے اپنے دوستوں، ساتھیوں کو کھو دیا ہے۔ اُس کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔”

ڈاکٹر پٹیل خود اتلیام ہاسٹل میں نہیں رہے، کیونکہ وہ بعد میں تعمیر ہوا، لیکن بی جے میڈیکل کالج کا کیمپس ان کے لیے ایک جذباتی وابستگی رکھتا ہے۔ ان کا گھر حادثے کے مقام سے تقریباً سات کلومیٹر دور ہے اور وہ ایپک اسپتال احمد آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

"جس جگہ کی میں نے تصویریں راکھ اور دھوئیں میں دیکھی ہیں، وہ میرے لیے بہت کچھ معنی رکھتی ہے۔”

حادثے کی تفصیلات
ایئر انڈیا کی پرواز AI 171 نے ابھی 600 فٹ بلندی ہی حاصل کی تھی کہ اچانک خرابی کے باعث اپنا راستہ بھٹک گئی اور سیدھا ہاسٹل کی عمارت سے ٹکرا گئی۔ یہ حادثہ بھارت کی ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے ہلاکت خیز فضائی سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، اور بوئنگ 787 ڈریملائنر کے لیے بھی پہلا مہلک حادثہ ہے۔

ڈاکٹر پٹیل اور ان کا خاندان اس سانحے کے بعد پہلی بار احمد آباد واپس جا رہا ہے، اور انہیں معلوم ہے کہ واپسی کا یہ سفر دل گرفتہ ہو گا۔

"میں ایئرپورٹ سے گھر جاتے ہوئے اسی راستے سے گزروں گا جہاں حادثہ ہوا۔ معلوم نہیں وہ جگہ دیکھ کر کیسا لگے گا۔ وہ جگہ ہم سب کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button