
خلیج اردو
دبئی – ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کے کئی حصے تباہی، خوف اور غیر یقینی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں، اور دبئی میں مقیم تارکین وطن اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے بے چین ہیں۔ کئی افراد کے اہل خانہ جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں سے واپسی فی الحال ممکن نہیں۔
ایرانی تارک وطن ایچ ایم، جو دبئی میں مقیم ہیں، کے والدین شیراز میں ایک مختصر دورے پر گئے تھے، مگر اب پروازوں کی معطلی کے باعث وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔
"میں بہت پریشان ہوں،” انہوں نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا۔ "میرے والدین کو اس ہفتے واپس آنا تھا، لیکن پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔ شکر ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور اُن کے علاقے میں فی الحال امن ہے۔”
ایچ ایم نے بتایا کہ وہ روزانہ فون پر اپنے والدین کی خیریت دریافت کرتی ہیں، کیونکہ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کمزور ہے یا بند کر دیا گیا ہے، جس سے رابطے مشکل ہو گئے ہیں۔
"وی پی این یا فون کالز سے ہی دنیا سے جڑے ہیں۔”
جنگ کا ساتواں روز، دباؤ میں زندگیاں
گزشتہ جمعے کو اسرائیل نے ایران میں کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں میزائل فیکٹریاں، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ ایرانی عسکری قیادت شامل تھی۔ اس حملے میں ایرانی چیف آف اسٹاف محمد حسین باقری اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی بھی مارے گئے۔ امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ شامل ہونے کے امکانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایچ ایم کے مطابق ان کے والدین ایران سے متحدہ عرب امارات واپس آنے کے لیے پرواز یا فیری سروس بک کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر جولائی کے اوائل تک سب کچھ منسوخ یا مکمل بُک ہے۔
"میں اپنے گھر میں تنہا ہوں، صرف میری بلی میرے ساتھ ہے۔ کام پر جاتی ہوں، معمول کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن اندر سے خالی اور خوفزدہ محسوس کرتی ہوں۔”
’پناہ گاہیں ہمارا معمول بن گئی ہیں‘
دبئی میں مقیم اسرائیلی نژاد ڈانا نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
"ہم مسلسل اپنے اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وہ ضرورت پڑنے پر پناہ گاہوں میں جا رہے ہیں اور خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
اسرائیلی ایمبولینس سروس ماگن ڈیوڈ آڈوم کے مطابق، ایران کے میزائل حملوں میں کم از کم 47 افراد زخمی ہوئے، جبکہ مزید 18 افراد پناہ گاہوں کی طرف بھاگتے ہوئے زخمی ہوئے۔ جنوبی اسرائیل کے شہر بیئر شیوا کے سوروکا اسپتال پر ایرانی میزائل حملہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق "بھاری قیمت چکوانے والا” عمل تھا۔
’بچوں کے لیے دہشت کے بغیر زندگی چاہیے‘
دبئی میں مقیم اسرائیلی شہری نٹالی نے کہا:
"اسپتال پر حملہ ناقابلِ معافی ہے۔ زندگی بچانے کے مراکز کو نشانہ بنانا انسانی اقدار کے خلاف ہے۔ اسرائیل میں زندگی ایک روسی رولیٹ جیسی ہو گئی ہے۔ ہر رات سونے سے پہلے دل میں یہ خوف ہوتا ہے کہ اگلا راکٹ ہمارے گھروں کو نہ تباہ کر دے۔ ہم صرف امن اور تحفظ چاہتے ہیں، تاکہ اپنے بچوں کو بغیر دہشت کے پال سکیں۔”
’بس وہ واپس آجائے‘
75 سالہ ایرانی نژاد دبئی کے رہائشی احمد صرف یہی چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی خیریت سے واپس آ جائے۔
"وہ اکثر سفر پر رہتی ہے، اور جنگ شروع ہونے کے وقت تہران میں تھی۔ دو روز قبل وہ اور اس کا خاندان شمالی ایران کی طرف روانہ ہو گئے۔ حکام نے تہران کے رہائشیوں کو شمال کی جانب منتقل ہونے کا کہا ہے۔ اب وہاں تقریباً ایک کروڑ لوگ ہیں۔ وہ سب کہاں جائیں گے؟”
انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی قلت کے باعث بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
"فی خاندان صرف 15 لیٹر فیول دیا جا رہا ہے۔ اتنی کم مقدار میں کوئی زیادہ سفر نہیں کر سکتا۔”
ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے شہر اراک میں جوہری ری ایکٹر اور نتانز میں مبینہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مقام کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک "سفارت کاری” سے وابستہ ہے مگر اپنی "خود دفاعی” پالیسی پر قائم رہے گا۔
ایک اور دبئی میں مقیم ایرانی تارک وطن، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو دن سے تہران میں موجود اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پا رہے، اور ان کی سلامتی پر سخت پریشان ہیں۔





