متحدہ عرب امارات

غیر قانونی پارٹیشنز: دبئی میں بعض مالکان کو کرایہ داروں کی غفلت کا بھاری خمیازہ

خلیج اردو
دبئی: دبئی میں رہائشی عمارتوں میں غیر قانونی پارٹیشنز کے خلاف کارروائیاں تیز ہونے کے بعد نہ صرف کرایہ دار بلکہ مکان مالکان بھی سنگین نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں، جو اکثر اوقات انہیں علم میں آئے بغیر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

دبئی مرینا کی رہائشی ایس ایل نے بتایا کہ اس کے کرایہ دار نے نہ صرف غیر قانونی طور پر اس کے اپارٹمنٹ کو آٹھ سے زائد افراد کو کرائے پر دیا بلکہ تالے تبدیل کیے، پاوڈر روم میں شاور نصب کیا، اور جگہ جگہ پارٹیشنز لگا دیے۔

"میں کئی مہینے اپنے ہی گھر میں داخل نہیں ہو سکی۔ جب آخر کار اندر گئی تو ہر طرف نمی کی وجہ سے پھپھوندی لگ چکی تھی۔ دروازے سوجھ چکے تھے اور اپارٹمنٹ اپنی اصل حالت سے بالکل مختلف ہو چکا تھا۔”

ایس ایل کو اپنی پراپرٹی کی تزئین و آرائش پر چار مہینوں میں 45 ہزار درہم خرچ کرنا پڑے۔ "مرمت کے مسائل فوری طور پر ختم نہیں ہوئے، تقریباً ڈیڑھ سال تک مسائل چلتے رہے۔”

مالکان لاعلم، نقصان بھگتنے پر مجبور

دوسرے مالکان نے بھی بتایا کہ انہیں تب پتہ چلا جب عمارت کے نئے چوکیداروں نے شکایت کی۔ البرشاء کے این. احمد نے بتایا کہ ان کے 2 بیڈ اپارٹمنٹ میں اصل کرایہ دار نے بیڈ اسپیسز اور پارٹیشنز بنا ڈالے تھے۔

"میں نے اپارٹمنٹ ایک ریٹیل ملازم کو کرائے پر دیا تھا، جس نے کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہے گا، مگر اصل میں وہاں پردوں کے پیچھے چار افراد رہ رہے تھے، جنہوں نے کچن کو بھی سونے کے کمرے میں تبدیل کر رکھا تھا۔”

این. احمد نے کہا کہ اب وہ مکمل بیک گراؤنڈ چیک کے بغیر کسی کو اپارٹمنٹ نہیں دیتے۔ "یہ خطرہ مول لینا بالکل مناسب نہیں۔”

اسی طرح، دبئی مرینا میں دو اپارٹمنٹس کی مالک مونا نے انکشاف کیا کہ ایک کرایہ دار نے اس کے یونٹ کو سوشل میڈیا کے ذریعے سب لیٹ کیا، جس کا انکشاف اس وقت ہوا جب اس نے بلدیہ کی مہم کی خبر پڑھ کر خود معائنہ کیا۔

"2 بیڈ اپارٹمنٹ میں 12 افراد مقیم تھے، جسے پانچ چھوٹے کمروں میں تقسیم کیا گیا تھا، نہ وینٹیلیشن درست تھی اور نہ ہی باتھ روم۔ میں نے فوری طور پر سب کو نکال دیا اور کرایہ دار سے معاہدہ ختم کر دیا۔”

مونا نے بتایا کہ اسے 12 ہزار درہم خرچ کر کے پارٹیشنز ختم کرنے، صفائی اور رنگ و روغن کروانے پڑے، مگر "ابھی بھی فلیٹ میں بو آتی ہے، جس کی وجہ سے نئے کرایہ دار آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button