
خلیج اردو
دبئی – سونے کی عالمی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں دبئی میں 24 قیراط سونا 400 درہم فی گرام سے تجاوز کر گیا۔ منگل کو دبئی جیولری گروپ کے مطابق 24 قیراط سونا 400.25 درہم، 22 قیراط 370.75 درہم، 21 قیراط 355.5 درہم اور 18 قیراط 304.75 درہم فی گرام پر فروخت ہو رہا تھا۔
عالمی سطح پر سپاٹ گولڈ کی قیمت 0.99 فیصد اضافے کے ساتھ 3,329.84 ڈالر فی اونس ہو گئی، جبکہ ایک روز قبل یہ قیمت 3,300 ڈالر سے کم تھی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور تجارتی محصولات سے متعلق بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔
امریکی تجارتی پالیسیوں پر خدشات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاپان کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر برہمی اور امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے محصولات میں ممکنہ اضافے کی وارننگ کے بعد سونے کی قیمتوں کو مزید تقویت ملی ہے۔
ای بی سی ریفائنری کے گلوبل ہیڈ نکولس فریپل نے کہا:
"ڈالر کی کمزوری اور یہ خدشہ کہ اگر ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈ لائن میں توسیع نہ ہوئی تو عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ان دونوں عوامل نے سونے کی قیمت کو سہارا دیا ہے۔”
دبئی میں خریداروں کا رجحان تبدیل
دبئی کے جیولرز کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ خریداروں کے فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ بلند نرخوں کی وجہ سے متوسط طبقے کے خریدار 18 قیراط کی سستی اقسام کی طرف منتقل ہو رہے ہیں تاکہ بجٹ میں رہتے ہوئے زیورات خرید سکیں۔
یہ رجحان خاص طور پر ان دنوں بڑھ گیا ہے جب یو اے ای کے مقیم افراد چھٹیوں پر اپنے آبائی ممالک کا سفر کرتے ہیں اور شادیوں یا تحائف کے لیے زیورات خریدتے ہیں۔







